ھریانہ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۲۸
ھریانہ کا سفر
مسٹر دیبی سنگھ تیوتیا ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ انھوں نے کچھ اصولی اختلاف کی بنیاد پر اس عہدہ سے استعفاء دے دیا۔ جسٹس تیوتیا نے اس کے بعد ایک پولٹیکل پارٹی بنائی ہے جس کا نام جن ستا پارٹی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد کرپشن سے پاک ہندوستان کی تعمیر کرنا ہے۔ ان کی پارٹی کے چھ ایجنڈے میں سے ایک صد فی صد تعلیم کا حصول ہے :
جن ستاپارٹی کی دعوت پر ہریانہ کا سفر ہوا۔
19 مئی 1995ء کی صبح کو دہلی سے گورگاؤں کے لیے بذریعہ کار روانگی ہوئی۔ میرے ساتھ سپریم کورٹ کے سنیئر ایڈووکیٹ مسٹر بلونت سنگھ ملک (8955901 .Tel) تھے۔ راستہ میں ان سے معلوماتی گفتگو ہوتی رہی۔
انھوں نے بتایا کہ وہ جاٹ برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہریانہ کے میو پہلے جاٹ تھے۔ پھر وہ مسلمان ہو گئے۔ مگر ان کا رہن سہن بڑی حد تک پہلے ہی کی طرح رہا۔ ہریانہ میں کہا جاتا ہے کہ : جاٹن کا کہا ہندو، میون کا کہا مسلمان۔ یعنی ایک ہی قوم ہے، وہ ہندو ہو تو جاٹ کہی جاتی ہے، اور مسلمان ہو تو اس کو میو کہتے ہیں۔
میں نے ان سے پوچھا کہ، 1947ء سے پہلے مسٹر محمد علی جناح کو چھوڑ کر، تمام بڑے بڑے مسلمان لیڈر متحدہ ہندوستان چاہتے تھے۔ مثلاً حکیم اجمل خان، سر خضر حیات، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسین احمد مدنی وغیرہ۔ پھر ملک تقسیم کیسے ہو گیا۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے آپ سر چھوٹو رام کو پڑھیے۔ ان کے بارہ میں حسب ذیل کتاب بہت جامع اور مستند ہے :
Chhotu Ram—a political biography by Madan Gopal اس کتاب میں سرچھوٹورام کابیس صفحہ کا وہ خط بھی شامل ہے جو انھوں نے مہاتما گاندھی کو لکھا تھا اور جس میں مشورہ دیا گیا تھا کہ آپ کسی حال میں بھی بٹوارہ کو مت مانئے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues