ھریانہ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۲۹
سرچھوٹو رام ایک جاٹ لیڈر تھے۔ وہ اسلام اور مسلمانوں سے اتنا زیادہ قریب تھے کہ عام ہندوان کو "چھوٹو خان" کہتے تھے۔ رہتک میں جاٹ کالج کے سامنے ان کی سمادھی ہے۔ اس پر اردو رسم الخط میں اقبال کا یہ شعر لکھا ہوا ہے :
خدا کے بندے تو لاکھوں دیکھے پھر ے بنوں میں ہیں مارے مارے میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا پنڈت لوگ سنسکرت کے سوا کوئی اور زبان سمادھی پر لکھنے کی اجازت نہیں دیتے ۔ مگر مسٹر ملک نے بتایا کہ جاٹ لوگ بہت کم برہمن کے اثر میں ہیں۔ وہ درمیانی واسطہ کے بغیر براہ راست خدا سے تعلق پر عقیدہ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانہ میں جاٹ لوگ بہت آسانی سے اسلام میں داخل ہوگئے ۔
آگے بڑھے تو جگہ جگہ دہلی کی تاریخی عمارتیں نظر آئیں ۔ انھیں میں سے ایک انڈیا گیٹ تھا۔ موجودہ صدی اب یہ ہے کہ وہ ایک بار پھر اسی طرح کے کسی موقع پر ایک چھوٹی سی جھلک یا ایک خوبصورت نظر آسکتا ہے،
‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues