Al-Risala · November 1997 · page 30

ھریانہ کا سفر

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۳۰

کے آغاز میں برٹش حکمرانوں نے اس علاقہ کی تعمیر کی اور ۱۹۱۲ء میں ملک کی راجدھانی کو کلکتہ سے نئی دہلی منتقل کیا۔ اس وقت انڈیا گیٹ انگریزوں کے داخلہ ہند کی علامت تھا، آج وہ ایک گزری ہوئی تاریخ کی یادگار ہے۔

دہلی کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے مجھے یاد آیا کہ یہ شہر کسی وقت عظیم سلطنت دہلی کا مرکز تھا جو تیرھویں صدی سے سولھویں صدی تک قائم رہی۔ سلطنت دہلی کو سلطان محمد غوری نے قائم کیا تھا۔ بابر نے ۱۵۲۶ء میں سلطان ابراہیم کو شکست دے کر دہلی کی سلطنت پر قبضہ کر لیا۔ یہ یہ سلطنت مزید وسعت کے ساتھ مغل خاندان میں ۱۸۵۷ء تک باقی رہی۔

جس زمانہ میں سلطنت دہلی عروج پر تھی، اسی زمانہ میں اسپین میں مسلم سلطنت کا خاتمہ ہوا۔ ۱۴۹۲ء میں جب کہ اسپین کا آخری مسلم بادشاہ ابو عبداللہ قلعہ الحمراء کی کنجیاں مسیحی حکراں فرنینڈ بنز کے حوالے کر رہا تھا، عین اسی سال سکندر لودی اپنی سلطنت کی تو سیع کے لیے جونپور کے علاقہ پر لشکر کشی کرنے میں مشغول تھا۔

علمی ترقی کا کام ہمیشہ حکومتوں کی سر پرستی اور تعاون سے ہوتا ہے۔ اسپین کی مسلم سلطنت کی سرپرستی میں علمی ترقی کا کام بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا تھا۔ جب یہ سلطنت کمزور ہوئی تو وہاں کے علماءء اسپین کو چھوڑ کر یورپ کے دوسرے ملکوں (اٹلی، فرانس، وغیرہ) جانے لگے۔ یہی لوگ تھے جنھوں نے یورپ کو تاریک دور سے نکال کر جدید ترقی کے دور میں پہنچانے کا ابتدائی کام کیا۔ اگر دہلی کی مسلم سلطنت یا اس زمانہ کی دوسری مسلم سلطنتیں اسپین کے علما کی سر پرستی کرتیں تو یقیناً یہ لوگ مسلم اسپین سے نکل کر دوبارہ کسی مسلم خطہ میں آجاتے اور یہاں اپنے ترقیاتی کام کی تکمیل کرتے۔ مگر اس زمانہ کی مسلم سلطنتوں کی واحد دل چسپی سیاسی تو سیع سے تھی، اس لیے علمی تو سیع کے لیے موافق زمین فراہم کرنے میں بھی وہ ناکام رہے۔

دہلی ہندوستان کا تیسرا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس کا رقبہ ۱۴۸۵ مربع کلومیٹر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلی صدی قبل مسیح میں مور یہ راجہ ڈھلو کے نام پر اس کا نام دہلی رکھا گیا۔ عام خیال ہے کہ دہلی سات بار اجڑی اور سات بار آباد ہوئی۔ مگر کچھ محققین کہتے ہیں کہ پندرہ بار ایسا ہوا۔ دہلی کا قدیم ترین حوالہ مہا بھارت میں پایا جاتا ہے۔ اس وقت اس کا نام اندر پرستھ تھا۔ یہ ۴۰۰ قبل مسیح کی بات ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues

Printed page