ھریانہ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۳۱
مختلف بادشاہوں نے بار بار دہلی کو تاراج کیا ہے۔ تیمور ۱۳۹۸ء میں اپنی وحشی فوجوں کو لے کر دہلی میں داخل ہوا۔ اور تقریباً پورے شہر کو تباہ کر ڈالا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک ہی دن میں اس نے پچاس ہزار آدمی قتل کروا دیے ۔
تیمور ( ۱۳۳۶ - ۱۴۰۵ء ) ابتداً ایک معمولی سردار تھا۔ اس کے بعد اس نے دنیا کی ایک عظیم سلطنت قائم کی۔ اس نے منگولیا سے لے کر میڈیٹرینین تک کا وسیع علاقہ فتح کر ڈالا۔ مگر ۷۰ سال سے بھی کم عمر میں جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹوں اور پوتوں میں جانشینی کا جھگڑا کھڑا ہو گیا جس کے نتیجہ میں اس کی وسیع سلطنت دوبارہ سکڑ کر سمر قند کے علاقہ تک محدود ہو گئی۔ تیمور اپنے کو مسلمان کہتا تھا۔ وہ بے حد بہادر مگر مکمل طور پر جاہل تھا۔ اس نے محض فوجی طاقت کے بل پر ایک ایسا ایمپائر قائم کرنے کی کوشش کی جو اس کے مرتے ہی ختم ہو گیا۔ مزید یہ کہ اس فرضی ایمپائر کو قائم کرنے کے جنون میں اس نے ۱۴۰۲ء میں سلطان بایزید کی یورپ کی جانب پیش قدمی کو روک دیا۔ ایک تاریخ بنتے بنتے رہ گئی (تفصیل کے لیے: عظمتِ اسلام ، صفحہ ۲۷۶ - ۲۷۷) ہم لوگ دہلی سے ہریانہ جانے والی سڑک پر چل رہے تھے۔ راستہ میں ایک جگہ سڑک کے کنارے ٹرک الٹا ہوا نظر آیا۔ وہ وسیع شاہراہ پر تیزی سے دوڑ رہا تھا کہ ایک مقام پر ڈرائیور کی غلطی سے اس کا پہیہ سڑک کے نیچے چلا گیا۔ اور پھر اچانک وہ الٹ گیا۔ اس کا سفر معطل ہو کر رہ گیا۔ میں نے سوچا کہ ایسا ہی کچھ معاملہ مسلمانوں کا ہے۔ مسلمان زندگی کی شاہراہ پر تیزی سے رواں دواں تھے کہ ان کے نااہل لیڈروں کی غلطی سے ان کی گاڑی الٹ گئی۔ ٹرک کے لیے جو حیثیت ڈرائیور کی ہے، ٹھیک وہی حیثیت کسی انسانی قافلہ کے لیے لیڈر کی ہوتی ہے۔ لیڈر اگر اہل ہے تو وہ گاڑی کو آگے لے جائے گا۔ اور لیڈر اگر نااہل ہے تو وہ پوری گاڑی کو خندق میں گرا دے گا۔ دہلی کے مختلف حصوں سے گزرتے ہوئے ہم اس علاقہ میں داخل ہوئے جس کو مہرولی کہا جاتا ہے۔ اسی علاقہ میں قطب مینار واقع ہے جو اپنی نمایاں بلندی کی وجہ سے بہت دور تک مسافر کا تعاقب کرتا ہے۔ ایک طرف وہ ماضی کی عظمت کا نشان ہے اور دوسری طرف دنیا کی بے ثباتی کا نشان بھی۔
قطب مینار کو تیرھویں صدی کے آغاز میں قطب الدین ایبک نے بنوایا تھا۔ اس کی بابت
‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues