ھریانہ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۳۲
تاریخ میں یہ الفاظ درج ہیں کہ ــــــــ دہلی کا قطب مینار ابھی تک قطب الدین ایبک کی فتوحات کی یاد دلاتا ہے :
The Qutub Minar in Delhi still stands to commemorate his معز الدین محمد (غور) کو ہندوستان میں مسلم سلطنت کے بانیوں میں سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ۱۲۰۶ء میں اس کو اس کے حریفوں نے قتل کر دیا۔ اگر چہ یہ واضح نہیں کہ اس کو قتل کرنے والے ہندو تھے یا مسلمان۔ قطب الدین ایک غلام تھا جو محمد غوری کے یہاں ملازمت میں آیا۔ ابتداء وہ اصطبل کے کام میں تھا۔ پھر ترقی کر کے فوجی افسر بنا اور بڑے بڑے کارنامے انجام دیے ۔ ۱۱۹۳ء میں پرتھوی راج کو شکست دے کر اس نے دہلی پر قبضہ کیا۔ اس کے بعد اس نے فتح کے نشان کے طور پر یہاں ایک اونچا مینار بنایا جو اس کے نام پر قطب مینار کہا جانے لگا۔
سلطان معزالدین محمد غور کے قتل (۱۲۰۶ء) کے بعد قطب الدین کو سلطان کا درجہ حاصل ہو گیا۔ تا ہم وہ زیادہ دنوں تک حکومت نہ کر سکا۔ گھوڑوں کے ایک کھیل میں وہ شدید طور پر زخمی ہو گیا۔ اسی میں ۱۲۱۰ء میں اس کا انتقال ہو گیا۔
آٹھ سو سال پہلے جب عظیم قطب مینار بنایا گیا، اس وقت وہ فتح کا نشان تھا۔ مگر آج وہ صرف عبرت کا نشان ہے۔ اب اس کی حیثیت صرف تاریخی علامت کی ہے نہ کہ زندہ حقیقت کی۔ ترقی یافتہ ملکوں میں تاریخی عمارتوں کی دیکھ بھال کا نہایت خصوصی اہتمام ہوتا ہے۔ انڈیا میں اکثر تاریخی عمارتیں غفلت کا شکار ہو رہی ہیں۔ انھیں میں سے ایک قطب مینار بھی ہے۔ آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا نے باقاعدہ پریس میں اپنی یہ شکایت دی ہے کہ قطب مینار کے باہر لال کوٹھی باؤنڈری کے پاس بہت سے مکانات ناجائز طور پر بنا لیے گئے ہیں۔ بار بار کی شکایت کے باوجود پولیس اس معاملہ میں کچھ نہیں کر رہی ہے۔ آرکیا لوجی کے کارکن جب جب ان تعمیرات کو ہٹانا چاہتے ہیں تو اس کے مالکان فوراً عدالت میں جا کر وہاں سے اس کے خلاف امتناعی حکم استے حاصل کر لیتے ہیں۔ جبکہ قانون کے مطابق ، باؤنڈری وال کے بعد ۲۳۰ میٹر تک کا علاقہ ممنوعہ علاقہ ہے۔ اور اس کے اندر اس قسم کی کوئی تعمیر نہیں کی جا سکتی :
‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues