Al-Risala · November 1997 · page 34

ھریانہ کا سفر

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۳۴

ہوں ۔ یا جن کے پاس کرنے کا کوئی کام نہ ہو۔ جو کام والے لوگ ہیں وہ کبھی اس پر عیش تنہائی میں رہنا پسند نہیں کر سکتے۔

اس علاقہ کے کئی فارم ہاؤسوں میں کسی میٹنگ یا فنکشن کے تحت مجھے بلایا گیا ہے۔ مگر ہر بار مجھے یہ تجربہ ہوا کہ داخل ہونے کے بعد کچھ لمحہ تک تو یہاں بہت اچھا معلوم ہوتا ہے۔ مگر کچھ دیر کے بعد ہی حبس کی سی کیفیت محسوس ہونے لگتی ہے۔ کیونکہ یہاں میرے لیے آرام تھا مگر یہاں میرے لیے کام نہیں تھا۔ اور انسان صرف آرام میں دیر تک مطمئن نہیں رہ سکتا۔ انسان کے مستقل سکون کے لیے اس کی پسند کا کام ہونا لازمی طور پر ضروری ہے۔

پون گھنٹہ بذریعہ روڈ سفر کرنے کے بعد ہم لوگ نور گاؤں کے مضافاتی علاقہ (قطب انکلیو) میں داخل ہوئے۔ یہاں جسٹس دیبی سنگھ تیوتیا کی وسیع رہائش گاہ (350797-8-0124 .Tel) پر میٹنگ کا انتظام کیا گیا تھا۔

جسٹس تیوتیا ایک جاٹ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ جاٹ اور میو (مسلمان) ہریانہ کے علاقہ میں صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں۔ مگر دونوں کے مزاج میں حیرت انگیز طور پر نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ جاٹ برادری کا مزاج کیا ہے، اس کو ایک میو کہاوت میں غالباً طنزیہ طور پر اس طرح بیان کیا گیا ہے :

جاٹ کہے سن جاٹنی یائی گاؤں میں رہنا اونٹ بلیا لے گئی ہاں جی ہاں جی کہنا میو لوگ اس کو فخر سمجھتے تھے کہ وہ کسی حکمراں کی اطاعت قبول نہ کریں۔ چنانچہ وہ دہلی کی ہر سلطنت سے لڑتے رہے، مسلم عہد میں بھی اور انگریزی عہد میں بھی۔ اپنی اس روش کی انھیں نہایت سخت سزا بھگتنی پڑی۔

مثلاً ۱۲۶۰ء میں انھوں نے بلبن کی شاہی فوج کے اونٹ لوٹ لیے۔ بلبن اس خبر کو سن کر نہایت غصہ ہوا۔ وہ دہلی سے روانہ ہو کر میوات کے علاقہ میں پہنچا۔ جہاں اس نے ۲۰ دن تک قتل و غارت گری جاری رکھی۔ بہت سے میو شارع عام پر بری طرح قتل کر دیے گئے۔ ان میں سے کچھ کو ہاتھیوں سے کچلوایا گیا۔ کچھ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گئے۔ تقریباً سو میوؤں کی زندہ کھال کھنچوائی گئی۔ مگر میوؤں کی باغیانہ روش ختم نہ ہو سکی۔ انھوں نے دوبارہ بدامنی شروع کر دی۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues

Printed page