ھریانہ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۳۵
بلبن دوبارہ اپنی فوج کے ساتھ اس علاقہ میں آیا اور میوؤں کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا۔ اور تقریباً بارہ ہزار مردوں اور عورتوں کو تہہ تیغ کر ڈالا۔ (تاریخ میو چھتری، از مولانا حکیم عبدالشکور صاحب، صفحہ ۳۳۲-۳۳۳)
میوؤں کے اس مزاج کا انھیں یہ نقصان اٹھانا پڑا کہ ان کی ترقی رک گئی۔ جب کہ اسی علاقہ میں دوسرے لوگ ترقی کرتے رہے۔ یہ صرف پچھلے ۲۰ برسوں کی بات ہے کہ میوؤں نے بھی کچھ ترقی شروع کی ہے اور یہ اس وقت ہوا جب کہ انھوں نے ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر موافقت کا طریقہ اختیار کیا۔ تاہم یہ تبدیلی ابھی تک کچھ افراد کی سطح پر ہے نہ کہ پوری میو قوم کی سطح پر۔ اس سے پہلے ۲۲ فروری ۱۹۹۳ء کو میں اس علاقہ میں آیا تھا۔ مسٹر احمد رشید شروانی نے یہاں ڈی ایل ایف کالونی میں اپنا ایک گھر بنایا ہے۔ یہاں سڑک کے کنارے ایک کلب ہے۔ اس میں دو بڑے بڑے لان ہیں۔ اس لان کے درمیان کلب کی کھلی ہوئی عمارت اس طرح واقع ہے جیسے ایک وسیع ہرے بھرے باغ میں خوب صورت فارم ہاؤس بنا ہوا ہو۔
شروانی صاحب کی دعوت پر میں اور نانا صاحب دیش مکھ اور ڈاکٹر ہیمیش شرما چند گھنٹے کے لیے یہاں آئے تھے۔ یہاں کے پرسکون ماحول میں شروانی صاحب کے ساتھ دن کا کھانا کھایا گیا۔ پھر ملک کے موجودہ حالات پر باتیں ہوئیں ، اس کے بعد ہم لوگ دہلی واپس چلے گئے۔ اس طرح کے کلب اور فارم ہاؤس ہندوستان کے وسیع صحرا میں نخلستان کی طرح معلوم ہوتے ہیں۔ پروفیسر ہیرن مکرجی آزادی کے بعد بننے والی پہلی لوک سبھا کے ممبر تھے۔ نئی دہلی میں لوک سبھا کے اجلاس میں شرکت کے بعد جب وہ بذریعہ ٹرین کلکتہ کے لیے روانہ ہوئے تو سڑک کے کنارے جھگی جھونپڑی کے مناظر نے انھیں متاثر کیا۔ واپس پہنچ کر انھوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کو خط لکھا کہ جھگیوں میں رہنے والے یہ غریب لوگ اگر ہم سے پوچھیں کہ ہندوستان کی آزادی سے ہم کو کیا ملا تو مجھ کو نہیں معلوم کہ ہمارا کیا جواب ہوگا۔
پنڈت جواہر لال نہرو (اس وقت کے وزیر اعظم ہند) نے براہ راست اس کا جواب نہ دیتے ہوئے پروفیسر ہیرن مکرجی کو لکھا کہ تم اپنے حساس ہونے کی قیمت ادا کر رہے ہو : You are paying the price of being sensitive.
‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues