ھریانہ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۳۶
گونگاؤں ریاست ہریانہ کا ایڈمنسٹریٹو ہیڈ کوارٹر ہے۔ وہ دہلی اور ریواڑی کے درمیان واقع ہے۔ کسی زمانے میں وہ ہدایت پور کہا جاتا تھا۔ اب اس کا نام گونگاؤں ہے۔ یہ ایک مثال ہے جو علامتی طور پر بتاتی ہے کہ ہمارا ملک کہاں سے کہاں چلا جا رہا ہے۔ آزادی (۱۹۴۷) کے وقت ہریانہ نام کی کوئی ریاست انڈیا میں موجود نہ تھی۔ وہ یکم نومبر ۱۹۶۶ کو ہندوستان کے نقشہ پر ظہور میں آئی۔ اس سے پہلے یہ علاقہ قدیم پنجاب میں شامل تھا۔ اس کے بعد لسانی ریاستوں کے مطالبات شروع ہوئے ۔ وہ اتنی شدت پکڑ گئے کہ حکومت کو اس کے آگے جھکنا پڑا۔ چنانچہ ایک ایکٹ کے مطابق، پنجابی بولنے والا علاقہ پنجاب بن گیا اور ہندی بولنے والا علاقہ ہریانہ کہلایا۔ پنجاب کے علاقہ میں زیادہ تر سکھ آباد تھے، اور ہریانہ کے علاقہ میں زیادہ تر ہندو۔ ہریانہ کے علاقہ کو ہندو مذہب کی جائے پیدائش سمجھا جاتا ہے۔ کرو کشیترا اسی ریاست میں واقع ہے ۔ جہاں ہندو روایات کے مطابق، ارجن نے اپنی لڑائی لڑی تھی اور کرشن نے وہ اپدیش دیا جو بھگوت گیتا کے نام سے مشہور ہے۔ ۱۵۲۶ء میں پانی پت کی تاریخی لڑائی بھی اسی علاقہ میں ہوئی جس میں بابر نے ابراہیم لودی کو شکست دی تھی۔ وغیرہ تیر اے۔ ۳۱ ایم۔ پی ایک، اس کے بعد ۲۸ مارچ سے ۳۱ مئی ۱۹۷۱ء ہریانہ ایک ہندی اسپیکنگ ریاست ہے۔ اس کی پچھمی سرحد دہلی سے ملی ہوئی ہے۔ ۱۹۶۱ کی مردم شماری کے مطابق، ریاست کی آبادی تقریباً ایک کروڑ (10,000,000) ہے۔ اس میں ۸۹ فی صد ہندو، چار فی صد مسلمان اور چھ فی صد سکھ ہیں۔ جین تقریباً ایک فی صد بتائے جاتے ہیں۔ مگر مسلمانوں کا خیال ہے کہ ان کی موجودہ تعداد اس سے کافی زیادہ ہے جتنا ۱۹۶۱ کی مردم شماری میں بتایا گیا تھا۔
ہریانہ کے وزیر آبپاشی و پارلیمانی امور مسٹر جگدیش نہرہ نے کناڈا وغیرہ کا سفر کیا تھا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے اپنا طویل سفرنامہ ”میری بدیش یاترا“ کے نام سے شائع کیا ہے۔ مجھے اس کی پانچویں قسط پڑھنے کا موقع ملا۔ اس میں انھوں نے لکھا تھا :
”شام کے وقت میں اپنے ایک دوست شری کرم ویر راٹھی کے گھر ڈنر پر مدعو تھا شری راٹھی تھے جو کہ مختلف صنعتوں سے وابستہ تھے ۔ مجھے وہاں ان سے مفصل بات چیت کرنے کا موقع ملا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues