ھریانہ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۳۸
کہ آج سردار لوگ بڑی تعداد میں برطانیہ کے شہروں میں موجود ہیں۔ اور خوشحالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پہلی بار۱۹۶۰ میں میں نے چندی گڑھ کاسفر کیا تھا اس وقت ڈاکٹر احسان اللہ خاں صاحب چندی گڑھ میں رہتے تھے۔ میرا چند روزہ قیام انھیں کے مکان پر تھا۔ یہ ایک علمی سفر تھا۔ اس کا مقصد نظریہ ارتقاء کے متعلق مزید معلومات حاصل کرنا تھا۔
ہندوستان میں سوالک پہاڑیوں میں قدیم جانوروں کے متحجرات فانس برآمد ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر احسان اللہ اس کی کھدائی کے انچارج تھے۔ سوالک پہاڑیاں چندی گڑھ سے بالکل قریب ہیں۔ یہاں پہنچ کر میں ان کے ساتھ سوالک پہاڑیوں میں گیا۔ وہاں متجرات کا مشاہدہ کیا۔ اس کے علاوہ چندی گڑھ میں واقع نیچرل ہسٹری میوزیم کو تفصیل کے ساتھ دیکھا۔ نیز یہاں کی لائبریری میں ارتقاء سے متعلق لٹریچر کا مطالعہ کیا ۔ اس مشاہدہ اور مطالعہ کے بعد میں وہ مضمون لکھا جو نظریہ ارتقاء کے نام سے ماہنامہ زندگی (رامپور) کے شمارہ ذوقعدہ ۱۳۸۰ ھ میں شائع کیا گیا۔ الجمعیة ویکلی کی ادارت (۱۹۷۱ - ۱۹۷۲) کے زمانہ میں میں نے میوات (ہریانہ ، راجستھان) کے تقریباً ۲۰ سفر کیے تھے۔ ان اسفار میں اس علاقے کے گاؤں میں گیا تھا۔ ان سفروں کی روداد اولاً لمحہ بہ لمحہ نکال کر، میں رکھ رہا تھا اس کے بعد ۱۹۵۵ میں "معارف" کا سفینہ" شائع کر کے نام سے شائع ہونے لگا۔ الجمعیۃ وی کلی میں چھپی تھی۔ اس کے بعد ۱۹۸۸ میں ان کا مجموعہ "میوات کا سفر" کے نام سے شائع کیا گیا۔ اس دوران پہلی بار میں ۱۹۶۹ میں گڑگاؤں آیا تھا۔ اس وقت میوات کے مشہور لیڈر چودھری یٰسین خان زندہ تھے۔ اگر چہ اب وہ بہت کمزور ہو چکے تھے۔ میوات کا سفر نامی کتاب میں ان سے پہلی ملاقات کی رو داد اس طرح درج ہے :
" ہمارے سفر کی پہلی منزل گڑگاؤں تھی۔ یکم اگست ۱۹۶۹ کی صبح کو جب کہ رکشا مجھ کو اور مولانا عبدالرحیم بڑیڈوی کو چودھری محمد یسین صاحب کی قیام گاہ کی طرف لے جا رہا تھا۔ ہماری باتوں کو سن کر رکشے والا اچانک بولا — " چودھری یٰسین ۔ ۔ ۔ ان کا حال تو یہ ہے کہ رات کو اٹھ کر تنہا جنگل چلے جاتے ہیں اور بھگوان کی دُیا ان پر ایسی ہے کہ شیر ان کے تلوے چاٹتا ہے " ہم لوگ چودھری ٹیسین کے کمرہ میں پہنچے تو وہ بڑھاپے اور بیماری کی وجہ سے صاحب فراش ہو چکے تھے ۔ میں نے سوچا کہ وہ شخص جو کبھی میوات کا شیر کہا جاتا تھا، وہ اب نڈھال ہو کر بستر پر پڑ گیا ہے۔ ان کی نقاہت کو دیکھ کر میں نے پوچھا کہ آپ کی عمر کیا ہوگی۔ انھوں نے جواب دیا : صورت یہی ہے عالم پر پرس ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues