ھریانہ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۳۹
میں نے تکرار کہا کہ کچھ اپنے تجربات بتائیے ۔ مگر وہ کچھ بول نہ سکے ۔ ہندوستان کے مسلمانوں کے بارہ میں انھوں نے سخت مایوسی کا اظہار کیا۔ ان کے نزدیک ان مسلمانوں کو بیدار کرنے کی کوشش کرنا گویا مردہ شخص کو طاقت کا انجکشن لگانا ہے۔ (صفحہ ۴۴)
گوڑگاؤں کی اس میٹنگ کا موضوع یہ تھا کہ کیا ملک کو سیاسی متبادل (Political alternative) مہیا کیا جا سکتا ہے۔ لوگوں نے اپنے اپنے خیالات پیش کیے۔
میں نے کہا کہ یہی بھارتیہ جنتا پارٹی کا نعرہ بھی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کانگریس کاسیکولرزم سوڈو سیکولرزم ہے۔ اور وہ خود ہندوتو کی شکل میں اس کا متبادل پیش کرنا چاہتی ہے۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو سوڈو سیکولرزم کا متبادل ہندو تو نہیں ہے۔ سوڈو سیکولرزم کا متبادل سچا سیکولرزم ہے۔ اس معاملہ کے مختلف پہلوؤں کو واضح کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اگر آپ لوگ فی الواقع اس معاملہ میں سنجیدہ ہیں تو فی الحال اپنی ساری طاقت ہر یانہ اسٹیٹ پر خرچ کیجیے۔ یہاں آپ ایک ایسا سسٹم بنائیے جہاں کسی درجہ میں ایسا ہو کہ دفتروں میں رشوت کے بغیر کام ہو۔ عدالتوں میں انصاف خریدے بغیر انصاف مل جائے ۔ ہر نوجوان کو تعلیم کی سہولت حاصل ہو جائے۔ ریاست میں امن وامان کی حالت قائم ہو جائے ۔ اگر ایک ریاست میں یہ باتیں قابل ذکر درجہ میں وجود میں آجائیں تو سارے دیش پر اس کا اثر پڑے گا اور پھر وہ وقت آئے گا جب کہ ہم ایک نئے ہندوستان کی تعمیر میں کامیاب ہو جائیں۔
یہ میٹنگ اصلاً سیاسی موضوع پر بات چیت کے لیے بلائی گئی تھی۔ تاہم دوران گفتگو بہت سی دوسری باتیں بھی سامنے آئیں۔ جسٹس دیبی سنگھ تیوتیا نے کہا کہ ہر آدمی کو سچائی کا پتہ ہے، مگر کوئی ترغیب (temptation) آدمی کو پاگل کر دیتی ہے۔ میں نے کہا کہ اس بات کو ایک عربی مقولہ میں اس طرح کہا گیا ہے کہ کسی چیز کی محبت تم کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے (حبُّک الشیئ یعمٰی و یصم) جن ستہ پارٹی کے سکریٹری اپنی ایک بات کہتے ہوئے بار بار "حضرت صاحب" کا لفظ بولتے تھے ۔ پہلے میری سمجھ میں نہیں آیا کہ حضرت صاحب سے کیا مراد ہے۔ مگر جب انھوں نے مکہ، مدینہ کا نام لیا اور کچھ واقعات کے حوالے دیے تو معلوم ہوا کہ اس سے ان کی مراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues