Al-Risala · November 1997 · page 40

Towards a new India

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۴۰

ملی ۔ نہ تو اکہ شابانِ مکہ کے بڑے کھو میں 1004 مہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر تراج موم میں نے اکثر پایا ہے کہ پڑھے لکھے ہندوؤں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت احترام پایا جاتا ہے۔ ایک مجلس میں ایک بار ایک صاحب نے کہہ دیا کہ اسلام علم سے روکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان تعلیم میں پیچھے ہو گئے ہیں۔ اس مجلس میں مشہور قانون داں مسٹر رام جیٹھ ملانی بھی موجود تھے۔ انھوں نے فوراً تردید کی۔ اور کہا کہ یہ بات صحیح نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ علم کی اہمیت پر تو پیغمبر اسلام کا ایک ایسا قول ہے جو آپ کو کسی کے یہاں بھی نہیں ملے گا۔ آپ نے فرمایا کہ عالم کے قلم کی سیاہی شہید کے خون سے زیادہ قیمتی ہے۔

آج (۱۹ مئی) کے انگریزی روز نامہ ہندوستان ٹائمّس میں میرا ایک مضمون چھپا تھا۔ اس کا عنوان تھا ---- ہندوستان کی تعمیر نو :

Towards a new India

اکثر لوگ اس مضمون کو آج صبح پڑھ چکے تھے۔ چنانچہ اپنے آپ وہ گفتگو کا موضوع بن گیا۔ سبھی لوگوں نے اس کو پسند کیا اور اس کے نکات سے اتفاق کیا۔

فوجوں کے لے اس کو پسند کیا اور اسے الھاس کر لیا ۔

ایک صاحب نے الیکشن کے ذریعہ پولیٹیکل چینج کی حمایت میں تقریر کی ۔ میں نے ان کے جواب میں جیمز فری مین کلارک (James Freeman Clarke) کا یہ قول دہرایا کہ سیاست داں اور مدبر میں یہ فرق ہے کہ سیاست دان اگلے الیکشن کے لیے سوچتا ہے۔ اور مدبر اگلی نسل کے لیے سوچتا ہے : میں نے کہا کہ جو لوگ محض الیکشن جیتنے کے مقصد سے سیاست کے میدان میں آتے ہیں وہ قوم کو زبردست نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کے سامنے صرف یہ ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح وہ الیکشن میں لوگوں کا ووٹ حاصل کر لیں۔ اس لیے وہ عوام کو بھڑکاتے ہیں۔ وہ عوام کے جذبات کا میں ووٹوں کا ووٹ حاصل کریں۔ اس لیے وہ عوام کو بھرکاے ہیں۔ وہ عوام کے جذبات کو استحصال کرتے ہیں۔ وہ الیکشن کے مفاد کے لیے قومی مفاد کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ الیکشن یا وقتی سیاسی مفاد کے لیے ہر پارٹی نے یہ کیا کہ اسکول اور کالج کے لڑکوں کو کلاس سے باہر لے آئی ۔ اس طرح اسکولوں اور کالجوں میں تعلیمی روایات ٹوٹ گئیں ۔ طلبہ تعلیمی سرگرمیوں کے بجائے وقتی سیاست کے ہنگاموں میں شریک ہونے لگے ۔ پڑھائی

‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues

Printed page