Al-Risala · November 1997 · page 41

Towards a new India

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۴۱

میں محنت کرنے کے بجائے وہ سیاسی نوعیت کے کےموں میں دل چسپی لینے لگے۔ یہی خاص وجہ ہے جس نے موجودہ زمانہ میں تعلیمی معیار کو پست کر دیا ہے۔ حالاں کہ پہلے ایسا نہ تھا۔ گورگاؤں کی اس میٹنگ میں ایک عجیب بات میں نے دیکھی کہ اکثر ہندو اپنی گفتگو کے دوران اقبال کا کوئی شعر پڑھتے تھے۔ ہر ایک کے اندر میں نے اقبال کے لیے خاص احترام پایا۔ ایک صاحب نے بتایا کہ خود پنڈت جواہر لال نہرو اپنی تقریروں میں اقبال کا یہ شعر بڑے ذوق وشوق سے پڑھا کرتے تھے :

یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے باقی مگر ہے اب تک نام و نشاں ہمارا میں نے سوچا کہ جب ہندوؤں کے دل میں اقبال کے لیے اتنا عزت و احترام تھا تو انھوں نے ہندوؤں سے کٹ کر علاحدہ مسلم اسٹیٹ بنانے کی تجویز کیوں پیش کی جس نے بالآخر پاکستان کی صورت اختیار کی۔ ایسی حالت میں تو چاہیے تھا کہ اقبال ہندوؤں کے ساتھ میل جول پر زور دیں اور ہندوؤں کے درمیان سفیر اسلام کا کردار ادا کریں۔

حال میں ایک جلسہ میں میری ملاقات ملکہ کے آرملکانی سے ہوئی جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے وائس پریسیڈنٹ ہیں۔ میں نے کہا کہ مسٹر جناح ملک کے بٹوارہ کے ذمہ دار تھے۔ مگر ہند وؤں سے بات چیت کے دوران میں نے محسوس کیا کہ ہندوؤں کو مسٹر جناح سے کوئی نفرت نہیں۔ حتی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی والوں کو بھی نہیں۔ اس کا سبب کیا ہے۔ مسٹر ملکانی نے جواب دیا : جناح کے خیالات جو بھی ہوں ، مگر وہ ایک دم دار آدمی تو تھا۔

جن لوگوں کے درمیان اسلام اور مسلمانوں کے لیے اس طرح نرم گوشہ موجود ہو، ان سے کٹ کر الگ ملک بنانا سرا سر ایک غیر دانش مندانہ بات تھی۔ ایسے لوگوں کے درمیان کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، نہ یہ کہ غیر ضروری طور پر ان سے قطع تعلق کر لیا جائے ۔

ایک صاحب نے کہا کہ آج کا مسئلہ اعتماد کا بحران (Crisis of credibility) کا مسئلہ ہے۔ اعتماد بالکل ختم ہو چکا ہے۔ اس لیے ایک آدمی اچھی بات کہتا ہے تو کوئی اس پر دھیان نہیں دیتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ صرف کہنے کے لیے ہے ، کرنے کے لیے نہیں ہے۔ ایک صاحب جن کا تعلق جاٹ برادری سے تھا، انھوں نے کہا کہ جاٹ عام طور پر سیدھے

‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues

Printed page