Towards a new India
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۴۳
جسٹس دیبی سنگھ توتیا نے بتایا کہ لاہور کے لا کالج نے اپنی ایک تقریب میں مجھے اولڈبوائے کی حیثیت سے بلایا تھا۔ وہاں میں ہوٹل میں ٹھہرنے کے بجائے ایک پاکستانی وکیل کے یہاں ٹھہرا۔ مریل کے پورے خاندان نے میرے ساتھ جس طرح عزت اور محبت کا برتاؤ کیا وہ اتنا زیادہ تھا کہ اس سے زیادہ میں سوچ نہیں سکتا۔
میں نے کہا کہ اگر آپ پاکستان کے اخبارات پڑھیں، یا پاکستان کا ٹی وی دیکھیں اور وہاں کا ریڈیو سنیں تو آپ پائیں گے کہ وہاں کا پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا رات دن ہندوستان کے خلاف نفرت کی باتیں پھیلا رہا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات بتاتے ہیں کہ میڈیا خواہ کتنا ہی طاقت ور ہو، اس کی ایک حد ہے۔ اس حد پر جاکر میڈیا کا اثر ختم ہوجاتا ہے۔ یہ حد خود انسان کی فطرت ہے۔ میڈیا کے تمام تر پروپیگنڈے کے باوجود انسان کی فطرت پھر بھی زندہ رہتی ہے۔ کوئی بھی خارجی چیز انسان کی فطرت کا خاتمہ نہیں کر سکتی۔
مسٹر سوراجیہ سنگھ گوڑگاؤں ضلع ہریانہ نے اس سلسلہ میں سر تنہا ہیں۔ وہ ایک عظیم سے جڑے ہوئے ہیں جو بندھوا مزدور کے خلاف تحریک چلا رہی ہے۔ چار سال پہلے وہ ہریانہ کے ایک مقام پر گئے جہاں ایک سو کے قریب بندھوا مزدور تھے۔ انھوں نے ان کو رہا کرانے کی کوشش شروع کی۔ مگر مالکوں نے انھیں اتنا مارا کہ ان کے دونوں پاؤں ٹوٹ گئے۔ اس کے بعد وہ کئی مہینہ تک اسپتال میں پڑے رہے۔
بندھوا مزدور خاتمہ قانون (Bonded Labour System (abolition) Act 1976) تقریباً ۲۰ سال پہلے پاس کیا گیا تھا۔ پچھلے سال گورنمنٹ نے اعلان کیا کہ ہم نے سواد و لاکھ بندھوا مزدور رہا کرائے ہیں اور اب یہ سماجی برائی ملک میں بہت کم ہو گئی ہے۔ ہریانہ گورنمنٹ نے اعلان کیا کہ ریاست میں بندھوا مزدور سسٹم کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
مگر مسٹر سوراجیہ سنگھ نے بتایا کہ یہ سب پروپیگنڈے کی باتیں ہیں۔ ان کے اندازہ کے مطابق ابھی بھی ملک میں ۵۰ لاکھ بندھوا مزدور موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ابھی حال میں ہم نے ہریانہ کے ایک مقام سے ۴۱ بندھوا مزدور رہا کرائے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قانون میں درج ہے کہ جہاں کہیں بھی بندھوا مزدور بنانے کے الزام میں کوئی شخص پکڑا جائے تو سمری ٹرائل کر کے اس کا فوراً فیصلہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues