Towards a new India
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۴۵
میجر عثمان صاحب کے حوصلے بلند ہیں۔ اور بلا شبہ اس دنیا میں کامیابی کے لیے سب سے بڑی چیز حوصلہ ہے۔ گوڑ گاؤں کی جامع مسجد پہنچے تو وہاں کافی لوگ جمع تھے۔ شہر کے علاوہ اطراف کے لوگ بھی موجود تھے۔ نماز سے پہلے تقریباً آدھ گھنٹہ کی ایک تقریر کی۔ تقریر میں میں نے (المساجد بیوت المتقین (حدیث) کو موضوع بنایا ۔
میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسجد تقویٰ کی تربیت گاہ کا مرکز ہے ۔ اس کے بعد مسجد اور نماز اور عبادت کی تشریح کی اور بتایا کہ تقویٰ دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیوں کا زینہ ہے ۔ اگر لوگوں میں تقویٰ کی صفات آجائیں تو وہ اہل دنیا کے لیے محبوب بن جائیں گے اور پھر آخرت میں جنت کے مستحق قرار پائیں گے ۔
نماز کے بعد تھوڑی دیر کے لیے امام صاحب کے کمرہ میں نشست ہوئی۔ یہاں ولی محمد صاحب ایڈووکیٹ اور دوسرے صاحبان سے مختصر گفتگو ہوئی۔
مسجد سے باہر نکلا تو ایک بڑا کتب خانہ نظر آیا اس میں کتابوں کی کثرت تھی۔ نے بتایا کہ یہ چودھری یسین صاحب کا مکان تھا۔ اس کو ان کے صاحبزادے چودھری طیب حسین نے از سر نو بنوایا ہے۔ اس کی پانچ منزلیں ہیں۔ اوپر ان کی رہائش گاہ ہے۔ نیچے کے تمام حصے مارکیٹ بنا دیے گئے ہیں۔
پہلی بار جب میں گوڑگاؤں آیا تھا تو اسی مکان میں چودھری یسین صاحب سے ملاقات ہوئی تھی۔ اس وقت وہ صاحب فراش ہو چکے تھے۔ جہاں تک یاد ہے، یہ قدیم وضع کا ایک خستہ مکان تھا۔ مگر اسی جگہ آج شاندار کئی منزلہ عمارت کھڑی ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ علامتی طور پر یہ اس ملک میں مسلمانان ہند کی حالت کا نشان ہے ۔ ۱۹۴۷ء کی تقسیم کے وقت مسلمان جس معاشی حالت میں تھے اس سے آج وہ بہت زیادہ آگے جا چکے ہیں۔ اس پر ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ ایک صاحب نے گوڑگاؤں کی ایک ماڈرن مسلم فیملی کا قصہ بتایا۔ یہ لوگ انگریزی تعلیم یافتہ ہیں۔ ان کے گھر میں انگریزی زبان ہی لکھی اور بولی جاتی ہے۔ ان کے لڑکے کی شادی ایک سابق گورنر کی لڑکی سے ہوئی۔ یہ لڑکی اگر چہ تعلیم یافتہ تھی، مگر اس کی تعلیم زیادہ تر اردو میں ہوئی تھی اور وہ اردو زبان بولتی تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues