Al-Risala · November 1997 · page 47

دوسرا سفر

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۴۷

نماز کے بعد ہم لوگ جسٹس تیوتیا کی رہائش گاہ پر پہنچے تو دوپہر کا کھانا میز پر رکھا جا چکا تھا۔ تمام شرکاء کے ساتھ کھانا کھایا گیا۔ کھانا بالکل سادہ اور میرے مزاج کے عین مطابق تھا۔ کھانے کے بعد دیر تک ملکی موضوعات پر تبادلہ خیال جاری رہا۔

شام کو گوڑ گاؤں سے دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔ اس سفر میں مسٹر مول چند جین ساتھ تھے۔ وہ عرصہ تک عملی سیاست میں رہے نہیں۔ ہریانہ کے منسٹر بھی بنے۔ مگر اب وہ ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں اور کرنال میں مال روڈ پر رہتے ہیں۔

انھوں نے بہت جوش کے ساتھ کہا کہ خرابی کی وجہ یہ ہے کہ لوگ بس اپنے سے باخبر ہوتے ہیں۔ وہ دوسرے کو نہیں جانتے۔ مثلا اسلام میں وحدت کا تصور جہانگیر ہے، ہاسی اور دھرم میں ہیں۔ اسی طرح اسلام میں جو مساوات ہے اس کا کوئی مقابلہ نہیں۔ مگر لوگ بے بنیاد طور پر غلط فہمیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے گنٹروں (خوبیوں) کو جانیں تو سارا اختلاف ختم ہو جائے۔ مسٹر جین اردو جانتے ہیں۔ انھوں نے میٹنگ میں سب کے سامنے یہ بات کہی کہ اسلام میں جو خلیفہ ہوئے ہیں ان سے بڑھ کر اچھے حکمراں کی مثال نہیں دی جا سکتی۔ ہمارے یہاں راجہ جنک کانمونہ بتایا جاتا ہے۔ مگر کون جانتا ہے کہ جنک کب تھے ، اور تھے بھی یا نہیں۔ وہ کوئی ہسٹاریکل فیگرنہیں اسلامی خلیفہ تو تاریخی شخصیتیں ہیں۔

مغرب کے قریب ہم لوگ دہلی واپس آگئے۔

دوسرا سفر

مول چند جین ہریانہ کی ایک معروف شخصیت ہیں۔ وہ ایک فریڈم فائٹر ہیں۔ اس کے علاوہ مسٹر اور ایم پی اور مختلف بڑے عہدوں پر رہ چکے ہیں۔ اب ان کی عمر ۸۰ سال ہو چکی ہے۔ ۲۰ اگست ۱۹۹۵ کو ان کا اکیاسی واں جنم دن تھا۔ اس موقع پر ان کے آبائی گاؤں سکندر پور ما جرا (کہنال) میں ایک عوامی تقریب منائی گئی۔ شری مول چند جین کو بچوں کو لائبریریوں کا بہت شوق ہے اور انھوں نے اپنے آبائی گاؤں سکندر پور ماجرا میں ایک اچھی لائبریری قائم کی ہے۔ اس لیے لوگوں نے طے کیا کہ اس بار مول چند جین کے جنم دن کو لائبریری دن کے طور پر منایا جائے منتظمین کی طرف سے مجھے بھی اس موقع پر شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ اس سلسلہ میں یہ سفر پیش آیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues

Printed page