Muslims are bad, because they are meat eater.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۵۳
نے بھی ایک ہزار روپے بطور عطیہ دیا۔
یہ تمام رقم شری مول چند جین کو ذاتی طور پر ان کی سالگرہ کی نسبت سے دی گئی تھی مگر انھوں نے اسی وقت پوری رقم لائبریری تحریک کو دے دی۔ یہ جلسہ ایک اسکول کی عمارت میں تھا۔ اس کی دیوار پر ہندی میں لکھا ہوا تھا: بستی کی ہی جیت ہوتی ہے۔
اس میں خاص سبق یہ تھا کہ سماج کے سربرآوردہ افراد کی طرف سے اس قسم کا فلاحی کام کیا جائے تو فوراً اس کو قبولیت مل جاتی ہے اور لوگوں کا تعاون اسے مل جاتا ہے۔ شری مول چند جین اس علاقہ کے ایک معروف آدمی ہیں۔ وہ ہریانہ میں منسٹر بھی رہ چکے ہیں۔ اس بنا پر انھوں نے جب لائبریری تحریک اٹھائی تو فوراً اس تحریک کو لوگوں کا تعاون حاصل ہوگیا۔ سکندر پور ماجرا کے اس جلسہ میں ہریانہ کے وزیر تعلیم بھی شریک تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں اعلان کیا کہ ہریانہ کے جس گاؤں میں بھی لائبریری قائم کی جائے گی تو سرکار کی طرف سے اس کو ہر ممکن امداد دی جائے گی۔ وزیر تعلیم نے بتایا کہ میں نے جاپان کا دورہ کیا۔ ایک دن میں وہاں کی ایک فیکٹری میں گیا جہاں کافی عورتیں کام کرتی تھی۔ میں نے دیکھا کہ ہر عورت اپنے سر پر سفید پٹی اور ہاتھ میں کالی پٹی باندھے ہوئے ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کس لیے۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہمیں کارخانہ سے شکایت ہے اس لیے آج ہم اسٹرائک کر رہے ہیں۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ پھر آپ لوگ کام پر کس لیے جا رہے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا : اسٹرائک الگ ہے اور کام الگ۔ اگر ہم کام نہیں کریں گے تو اس سے دیش کا نقصان ہوگا۔
پروفیسر ہری سنگھ نے کہا کہ میں نے قرآن کا ترجمہ بار بار پڑھا ہے۔ قرآن میں جس گائے کو کاٹنے کا ذکر ہے ، اس کا ایک خاص رنگ بتایا گیا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو ہم نیل گائے کے نام سے جانتے ہیں۔ میں خود کہتا ہوں کہ نیل گائے کو مارنا چاہیے۔ وہ فصل کو بہت برباد کرتی ہے۔ ایک بوڑھے ہندو نے کہا کہ ہم بچپن میں سنتے آئے تھے کہ مسلمان بہت برے ہیں۔ کیوں کہ وہ گوشت کھاتے ہیں :
Muslims are bad, because they are meat eater.
اس کے بعد میرا داخلہ ایک کالج میں ہوا۔ وہ ہندو کالج تھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ہندو بھی میٹ کھاتے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues