Muslims are bad, because they are meat eater.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۵۴
ہیں ۔ چنانچہ وہاں دوپارٹی تھی۔ ایک کو ماس پارٹی اور دوسری کوگھاس پارٹی کہتے تھے۔ نے ماما کہ خود آریہ سماجیوں میں دونوں قسم کے لوگ ہیں۔ اس تجربہ کے بعد مسلمانوں سے میری نفرت ختم ہوگئی۔ ایک ریٹائرڈ ہندو جج نے کہا کہ یہ سب تو اس وقت کی باتیں ہیں جب کہ زرعی دور تھا اور اکانومی گائے پر بیس میں کرتی تھی۔ اب گائے کی اقتصادی قابلیت (economic viability) ختم ہوگئی۔ اب ہل بیل کی جگہ ٹریکٹر آگیا ہے۔ اس لیے اب اس قسم کی بحثوں کو بھی ختم ہو جانا چاہیے۔ اب گائے بھی ویسی ہی ایک جانور ہے جیسے کہ دوسرے جانور ۔
واپسی دوبارہ جسٹس دی سنگھ تیوتیا کے ساتھ ہوئی ۔ راستہ میں مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ جسٹس تیوتیا کی ابتدائی تعلیم لاہور میں ہوئی۔ ۱۹۹۲ء میں وہ پاکستان گئے تو وہاں کے لوگوں نے ان سے بے حد محبت کا اظہار کیا۔ وہاں وہ بالکل اپنوں جیسے ماحول میں رہے۔ انھوں نے بتایا کہ واپسی میں جب وہ لاہور سے دہلی آنے والے جہاز پر سوار ہوئے تو جہاز میں ان کی ملاقات ایک ۸۰ سالہ پاکستانی سے ہوئی ۔ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ لکھنو جارہے تھے۔ بوڑھے پاکستانی نے کہا کہ ”میں اپنے ملنے کو اسی جہنم کھومی دکھانے جا رہا ہوں ۔ اٹھھوں نے مزا کہاکہ جب میں لکھنؤ کی زمن سرہیختا اپنے بیٹے کو اپنی رحم ہوگی دکھائے جارہا ہوں ۔ اٹھوں کے خرید ہالہ جب میں چھوٹی زمین پر پہنچا ہوں جو میرا آبائی وطن ہے تو میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔
جسٹس تیوتیانے اپنے سفر پاکستان کے بارہ میں اس قسم کے مختلف تجربے بتانے کے بعد کہا کہ ۱۹۴۷ء میں یہاں جو جغرافی تقسیم ہوئی اس نے انسانی تقاضوں کو کچل ڈالا۔ اب ضرورت ہے کہ برصغیر کے ملاپ (sub-continental reconciliation) کاپراسس جاری کیا جائے ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ سیاست وہی ہے جو حالات کے اعتبار سے قابلِ عمل ہو۔ موجودہ حالات میں مذہبی سیاست قابلِ عمل نہیں۔ کیوں کہ اس کے موافق ذہنی فضا ملک میں موجود نہیں۔ اس وقت ہم جن حالات کے درمیان ہیں اس میں قابلِ عمل سیاست صرف ایک ہے، اور وہ سیکولر سیاست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اسلامی سیاست فیل ہو گئی ، اور اسی طرح ہندوستان میں بھی ہندو کی سیاست فیل ہو گئی۔ اس کی وجہ یہی رکھتی کہ دونوں ممالک میں کسی بھی ملک طرح ہندوستان میں بھی سیاست فیل ہو گئی۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ دونوں میں سے کسی ملک میں راس الوقت نہ تو مذہبی سیاست پر اصلو بر سیاست چلا جانے کا موقع موجود تھا اور نہ ہی کسی کسی نظام میں اس وقت مذہب کے اصولوں پر سیاست چلانے کے مواقع موجود نہیں۔ اگر کسی کو مذہبی نظام لانا ہے تو سب سے پہلے اس کو سماج کے اندر مذہبی ماحول بنانا پڑے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues