Al-Risala · November 1997 · page 57

خبر نامه اسلامی مرکز

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۵۷

لی۷۔ ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس کا موضوع ناقص الاعضاء انسانوں کے مسائل پر مشتمل تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اسلام میں یہ تصور نہیں ہے کہ ناقص الاعضاء آدمی اپنے پچھلے جنم کی کسی غلطی کو بھگت رہا ہے اس لیے وہ قابلِ احترام نہیں ہے۔ بلکہ اسلام میں ایسا آدمی دوسروں سے زیادہ قابلِ احترام سمجھا جاتا ہے چنانچہ ایک بار پیغمبر اسلامؐ کے پاس کچھ سردار لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ اس درمیان میں ایک نابینا شخص آگئے۔ پیغمبر سرداروں سے بات کرتے رہے اور نابینا کی طرف التفات نہیں کی۔ اس پر قرآن کی سورہ نمبر ۸۰ میں تنبیہ اتری۔

٦۔ نیوز اینڈ ویوز الائنس کے چیف ایڈیٹر نسیم نقوی نے ۱۲ جون، ۱۹۹۷۷ کو صدر اسلامی مرکز کا خصوصی انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع زیادہ تر سوامی وویکانند سے متعلق تھا۔ ایک مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کے لیے وحدتِ ادیان کا نظریہ قابلِ عمل نہیں۔ شہنشاہ اکبر کی طاقت، ڈاکٹر بھگوان داس کا علم اور مہاتما گاندھی کی قیادت اس کو حاصل کرنے میں پوری طرح ناکام رہی۔ اس مقصد کے لیے بہترین فارمولا وہ ہے جو سوامی وویکانند نے دیا :

یعنی ایک کو مانو اور کسی سے نفرت نہ کرو ( فالوؤن اینڈ ہیٹ نن) ے ۔ ہندی اخبار دینک جاگرن کے کرسپانڈنٹ مسٹر اویناش مشرا نے ۱۳ جون ، ۱۹۹ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ۱۹۴۷ سے پہلے اور ۱۹۴۷ کے بعد کے بارے میں ذاتی مشاہدات سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ خواہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم دونوں ابتدائی طور پر اپنی فطرت پر ہوتے ہیں۔ اگر انھیں بہکایا نہ جائے تو وہ بھائی بھائی کی طرح ہی زندگی گزاریں۔ یہ دراصل بہکانے والے لیڈر ہیں جو ان کو فطرت کے راستہ سے ہٹا دیتے ہیں۔

۸۔ کلکی پگنا ٹرسٹ ٹرسٹ(مدراس) کی طرف سے راج گھاٹ نئی دہلی میں ۲۸ جون ، ۱۹۹ کو ایک جلسہ ہوا۔ اس کا موضوع مذاہب میں عبادت کا تصور تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ اور اسلامی عبادت اور نماز کے موضوع پر ایک تقریر کی۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues

Printed page