Al-Risala · December 1997 · page

نہ تھا پلے کسی ملت کا دنیا میں گراں ہم سے

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷

تو رمضان میں ایک مہینہ کے لیے وہ اس ترتیب کو بدل دیں۔ یعنی دن میں نہ کھا کر رات کے اوقات میں کھائیں۔ روٹین میں اس قسم کی تبدیلی جسمانی اعتبار سے بھی مفید ہے اور روحانی اعتبار سے بھی۔

ماہ رمضان کے روزہ کے بارہ میں یہ اصولی اور نظریاتی بات تھی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اصولی اور نظریاتی اعتبار سے ماہ رمضان کے روزہ کے بارہ میں مذکورہ قسم کا اعتراض بالکال بے بنیاد ہے اس کے حق میں کوئی واقعی دلیل موجود نہیں۔

مگر یہ صرف اصول اور نظریے کی بات نہیں۔ عملی واقعات بھی اس کو بالکل بے بنیاد ثابت کر رہے ہیں۔ عملی واقعات سے میری مراد (روزہ داروں) کی تاریخ ہے مسلمان پچھلے چودہ سو سال سے سال میں ایک مہینہ روزہ رکھتے چلے آ رہے ہیں۔ مگر تاریخی واقعات بتاتے ہیں کہ اس روزہ نے کسی بھی درجہ میں ان کو کمزور نہیں کیا۔

اسلام کے دور اول میں اصحاب رسول کی تعداد تقریباً ایک لاکھ تھی۔ یہ سب کے سب روزہ دار تھے، مگر انھوں نے تاریخ کا اہم ترین انقلاب برپا کیا۔ یہ اصحاب رسول روزہ دار قوم کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں عرب قبائل، رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر سب کے سب غیر روزہ دار لوگ تھے۔ ان دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ پیش آیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ غیر روزہ داروں کے اوپر روزہ دار قوم نے کھلی فتح حاصل کی۔

اس کے بعد روزہ دار مسلمانوں نے بڑے بڑے معرکے سر کیے، اور وقت کی سب سے بڑی سلطنت قائم کی۔ ایک شاعر نے بجا طور پر کہا ہے کہ :

نہ تھا پلے کسی ملت کا دنیا میں گراں ہم سے

پھر یہی روزہ دار لوگ تھے جنھوں نے بغداد میں اس وقت کا سب سے بڑاعلمی مرکز قائم کیا۔ انھوں نے اسپین میں وہ علمی ترقیاں کیں جو بعد کو یورپ کے سائنسی انقلاب کی بنیاد بنی۔ حقیقت یہ ہے کہ روزہ آدمی کو کمزور نہیں کرتا۔ روزہ آدمی کو ذہنی اور جسمانی دونوں اعتبار سے طاقت ور بناتا ہے۔ نظریاتی مطالعہ بھی اس کی تصدیق کر رہا ہے اور تاریخ کا عملی مطالعہ بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues

Printed page