مہاراشٹر کا سفر
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷
میں مضامین کم اور تصویریں زیادہ تھیں۔ ایک مضمون ٹریننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے عنوان سے تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سرمایہ اور مشین کے علاوہ کسی بھی آرگنائزیشن کی کامیابی اس کے افراد کار کی کوالٹی پر بھی منحصر ہے :
It is an accepted fact that, besides money materials and machines, the success of any organisation also depends upon the quality of its human resources. (p. 63)
مگر میں کہوں گا کہ یہ بھی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ "ہی" کا معاملہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ بزنس ہو یا اور کوئی کام، ہر میدان میں کامیابی کے لیے اصل اہم عنصر لائق انسان ہے۔ لائق انسان کی اہمیت حقیقی ہے اور بقیہ چیزوں کی اہمیت اضافی۔
جہاز کے اندر مطالعہ کے لیے کئی اخبارات موجود تھے۔ دی آبزرور (۳۰ ستمبر) کے صفحہ اول پر ایک رپورٹ ہندوستانی ریاستوں کے بارے میں تھی۔ اس سلسلہ میں بتایا گیا تھا کہ ۱۸۳۹ء میں جب کہ برٹش کمپنی آف انڈیا کا دور تھا۔ ایک انگریز مسٹر بیرن (P. Barron) نے پہلی بار نینی تال کی جھیل کو دریافت کیا۔ اس نے محسوس کیا کہ یہ ایک یوروپین کا لونی کے لیے بہترین جگہ ہے۔ مسٹر بیرن خوشی سے جھیل کے اندر داخل ہو گیا۔ اس کا سفید فام جسم جب مقامی لوگوں نے پانی کے اندر سے نکلتے ہوئے دیکھا تو لوگوں نے سمجھا کہ یہ وشنو بھگوان ہیں جو پانی کے اندر سے پرکٹ ہو گئے ہیں۔ مگر اس کے رپورٹر مسٹر کماریش چکرورتی کے الفاظ میں ، اترکھنڈ کے لوگوں کے لیے آج جس وشنو بھگوان کی ضرورت ہے وہ صنعتی سرمایہ کاری ہے :
The Vishnoo which the people of Uttarakhand require in the 1990s is large-scale industrial investment. گویا کہنے والا یہ کہہ رہا ہے کہ وشنو دور قدیم کا دیوتا تھا۔ اب دور جدید میں ہم کو مشینی دیوتا کی ضرورت ہے شام کو آٹھ بجے سے کچھ پہلے جہاز بمبئی میں اترا گیا۔ باہر آیا تو ایر پورٹ پر ایک طرف بھارتیہ ودیا بھون کے نمائندے موجود تھے ۔ دوسری طرف بمبئی کے ساتھی بھی آئے ہوئے تھے۔ اب سوال یہ تھا کہ میں کس کے ہمراہ جاؤں اور کہاں قیام کروں۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو ترجیح دی۔ یہی میرا عام اصول ہے۔ مثلاً ۱ ۲ اکتوبر کے لیے میرے پاس تین دعوت نامے آئے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues