مہاراشٹر کا سفر
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷
ہوئے تھے ۔ ایک ، ایک،نیوانڈیا موومنٹ کی آل انڈیا کانفرنس کے لیے جو پلانی (راجستھان ) میں ہورہی تھی ۔ دوسرا ، چنتک منڈل کا آل انڈیا سیمنار جو جواہر لَالَ نہرو یونیورسٹی (نئی دہلی) میں منعقد ہورہا ہے ۔ تیسرا ، بھارتیہ ودیا بھون کا پروگرام سداچار بھارتی۔ یہ تینوں ایک ہی تاریخ میں تھے ۔ میں نے اول الذکر دو کو چھوڑ دیا اور بمبئی کے دعوت نامہ کو اختیار کر لیا۔ اور اس کا خاص سبب یہی تھا کہ اس میں بمبئی اور پونہ کے احباب سے ملاقات کی صورت پیدا ہورہی تھی ۔
ایر پورٹ سے روانہ ہو کر پہلے ہمارا قافلہ جناب اقبال احمد صاحب صاحب(باندرہ ایسٹ) کے مکان پر پہنچا۔ یہاں کچھ دیر عام مسائل پر گفتگو ہوئی۔
اس کے بعد جناب ہارون شیخ، جناب فاروق فیصل، جناب ایم، اے صدیقی، وغیرہ کے ساتھ روانہ ہوکر جسٹس ایم ایم قاضی کی رہائش گاہ پر پہنچا۔ جہاں مجھ کو قیام کرنا تھا۔ جسٹس قاضی سے تقریباً ۱۲ بجے تک گفتگو ہوتی رہی۔ انھوں نے بتایا کہ کل انھیں ایک اجتماع میں تقریر کرنا ہے یہ انڈو عرب سوسائٹی کے تحت حج ہاؤس میں ہورہا ہے۔ اس کا موضوع یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اثرات عرب پر اور سارے عالم پر :
Prophet Muhammad—His influence on the Arab society and on the whole universe. جسٹس قاضی اپنی قانونی اور عدالتی مصروفیت کے باوجود اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کثرت سے کرتے رہتے ہیں۔ انھوں نے ایک تبصرہ میں کہا : میں نے اکثر مسلم رائٹرس کو پڑھا ہے مگر آپ کے یہاں ریلیونٹ اور ار ریلیونٹ کا جو اکوریٹ سنس پایا جاتا ہے وہ کسی اور کے یہاں مجھ کو نہیں ملا۔ جسٹس ایم ایم قاضی ایک ماہر قانون ہیں۔ اس لیے وہ ریلیونٹ اور ار ریلیونٹ کا فرق بخوبی طور پر جانتے ہیں۔ عام مسلم اہل قلم کا حال تو یہ ہے کہ انھوں نے خطابت اور انشاء پردازی کی روایات میں پرورش پائی ہے۔ شعر و ادب کے ماحول میں ان کی فکری تشکیل ہوئی ہے، اس لیے وہ دونوں کا فرق جانتے بھی نہیں، کجا کہ اس فرق کو نبھاتے ہوئے وہ کوئی جاندار لٹریچر تیار کرسکیں۔ جسٹس ایم ایم قاضی مہاراشٹر ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل کے چیرمین ہیں۔ ان کے موجودہ وائس چیرمین مسٹر رام مورتی ہیں۔ جو مہاراشٹر حکومت کے سابق چیف سکریٹری رہے ہیں۔ مسٹر رام مورتی
‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues