مہاراشٹر کا سفر
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷
جولائی ۱۹۹۴ء میں جسٹس قاضی کے آفس میں آئے۔ ایک ہفتہ ان کے ساتھ کام کرنے کے بعد وہ جسٹس قاضی سے اتنا متاثر ہوئے کہ انھوں نے ان کے بارہ میں کہا کہ میرا تعلیمی عمل اب شروع ہوا ہے : My process of learning has commenced now. قاضی صاحب کو اشعار کثرت سے یاد ہیں۔ ہر بات کے لیے فوری طور پر ایک موزوں شعر ان کے ذہن میں آجاتا ہے۔ ایک گفتگو کے دوران انھوں نے جوش کا یہ شعر پڑھا :
دشمن کی سمت ایک ذرا مسکرا کے دیکھ اس حربہ لطیف کو بھی آزما کے دیکھ یہ سفر ایسے حالات میں ہوا جب کہ پلیگ کی وباء پھیلنے کی خبریں پورے ملک میں گونج رہی تھیں لیکن ہر جگہ میں نے دیکھا کہ لوگ صرف حکومت اور انتظامیہ کو برا کہہ رہے ہیں۔ آج کے ٹائمس آف انڈیا (۳۰ ستمبر) میں بتایا گیا تھا کہ دہلی کا شہر ہر روز چھ ہزار ٹن گارج (کوڑا) پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح بمبئی میں ہر روز پانچ ہزار ٹن گارج پیدا ہوتا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ شہری انتظامیہ (civic agencies) اگرچہ اپنی آمدنی کا ۳۵ فی صد حصہ صرف صفائی پر خرچ کرتی ہیں، مگر عملاً صرف ۵۰ فی صد کوڑا اٹھایا جاتا ہے۔ باقی یوں ہی آبادیوں میں پڑا رہ جاتا ہے۔ کامرس منسٹر مسٹر پرتاب کرجی نے بتایا کہ پلیگ کی وجہ سے اکتوبر ۱۹۹۴ء کے مہینہ میں انڈیا کو ایکسپورٹ کی مدمیں جونقصان ہوا ، اس کی مقدار ۷۰ ملین ڈالر ہے۔
اندازہ کیا گیا ہے کہ بمبئی میں پانچ کروڑ چوہے ہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے ، ،پلیگ چوہوں کے ذریعہ پھیلتا ہے۔ کیوں کہ اس کے جراثیم ہمیشہ چوہوں کے جسم میں پرورش پاتے ہیں۔ حکومت ایک کمپنی کے ذریعہ پچاس ٹن سائنو گیس (cyno-gas) درآمد کر رہی ہے تاکہ ان چوہوں کو مارا جاسکے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ، اس وقت بمبئی میں چوہے مارنے کی مہم چلائی جارہی ہے۔ مگر عوام کی غیر سرگرم شرکت کی بنا پر روزانہ صرف ایک ہزار چوہے مارے جارہے ہیں۔ کیونکہ برادران وطن کے عقیدہ کے مطابق ، چوہا گنیش دیوتا کی سواری ہے اور اس بنا پر وہ ایک قابل احترام جانور سمجھا جاتا ہے۔
ہندی روز نامہ آنند آنند(۴ اکتوبر) کے پہلے صفحہ کی خبروں میں سے ایک خبر کی سرخی یہ تھی : سورت میں پلیگ کی وجہ سے ہر روز نہ ۱۵۰ کروڑ روپیہ کا نقصان ۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ ۲۲ ستمبر ۱۹۹۴ء سے یہ پلیگ
‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues