America and Russia agree to disagree
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷
کیا کہ کیا کوئی بڑا کار و بار بینک سے قرض لیے بغیر کیا جا سکتا ہے۔
اور اس کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ شیئر فروختگی کی بنیاد پر اپنا کاروبار قائم کریں۔ لوگوں کے پاس روپیہ ہے اور وہ اس کو کاروبار میں لگانا چاہتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ سود کی بنیاد پر شرکت سے زیادہ مفید نفع کی بنیاد پر شرکت کرنا ہے۔ اگر آپ لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ کر دیں تو آپ بڑی سے بڑی رقم ان سے حاصل کر سکتے ہیں۔
ہارون صاحب کے مکان سے متصل اسی بلڈنگ میں جناب اقبال مسعود صاحب کا مکان تھا۔ یہاں آج "میڈیا واچ" کا ہفتہ وار اجتماع تھا۔ میں نے اس میں بھی شرکت کی۔ ہندوستان کے مسلم مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ مسائل بھی زندگی کا ایک حصہ ہیں۔ بے مسئلے زندگی اس دنیا میں ممکن یں۔ آپ کو ہر ملک میں اور ہر سماج میں مسائل ہی کے ساتھ جینا ہے۔ نہ کرنے کا کام یہ نہیں ہے کہ آپ مسائل کے خلاف شور و غل کریں۔ اصل کام یہ ہے کہ مسائل کے معاملہ میں اپنی تدبیر کا تعین کیا جائے۔
اقبال مسعود صاحب آئی اے ایس سے ریٹائر ہونے کے بعد اب جرنلزم کے میدان میں کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے ۳۰ سالہ عوامی تجربہ کی روشنی میں کہا کہ ہندوؤں کو خوش کرنا دنیا کی تمام قوموں میں سب سے زیادہ آسان ہے :
The easiest people to please in the world are Hindus. دوسری بات انھوں نے یہ کہی کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں ایک مستقل کلچرل فرق یہ ہے کہ مسلمان جب ایک رائے قائم کرلے تو اس کو بدلنا سخت مشکل ہے ، جب کہ ہندو زیادہ آسانی سے اپنی رائے بدل لیتا ہے :
A permanent cultural difference between Hindus and Muslims is that once a Muslim forms an opinion, it is difficult to change it, whereas a Hindu is more willing to change his opinion about a person. یہ بے حد اہم بات ہے۔ مگر اس کو صحیح طور پر سمجھنا صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ ہندوؤں سے رقابت کا تعلق ختم کر دیا جائے اور اس کے بجائے ان کے ساتھ حقیقی معنوں میں برادرانہ تعلق قائم کیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues