America and Russia agree to disagree
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷
بمبئی کے ماہنامہ البلاغ (اپریل ۱۹۹۵) میں مسٹر حسن کمال کا ایک مضمون دیکھا جس کا عنوان تھا: مسلم قیادت کا مسئلہ۔ اس کا کچھ حصہ یہ ہے :
"برسوں پہلے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ہیم وتی نندن بہوگنا نے ایک بات چیت کے دوران ہندوستانی مسلمانوں کے حال زار پر تبصرہ کرتے وقت کہا تھا کہ ہر ہندوستانی مسلمان اپنی جگہ ایک بڑا لیڈر ہے ، بس باقی لوگ اس کی لیڈری تسلیم نہیں کرتے۔ ان مسلمانوں کی حالت مرتبان میں بند کیکڑوں کی طرح ہے۔ اگر ایک کیکڑا کسی طرح جدوجہد کرکے مرتبان سے باہر نکلنے لگتا ہے تو بقیہ کیکڑے اس کو پکڑ کر نیچے گھسیٹ لیتے ہیں۔ ۔۔ کچھ دنوں پہلے بمبئی کے ایک اخبار کے دفتر میں اتفاقیہ طور پر ہماری ملاقات چند سربرآوردہ مسلمانوں سے ہوگئی۔ باتوں باتوں میں ہم نے یہ کہہ دیا کہ ہمارے خیال میں مسلمانوں کو کچھ عرصہ کے لیے سیاست میں پچھلی صف (بیک بنچ) اختیار کر لینی چاہیے۔ ایک مسلمان عالم یہ سنتے ہی آگ بگولہ ہوگئے۔ انھوں نے ہم پر احساس کمتری اور احساس خوف پھیلانے کا الزام لگایا (صفحہ ۲۳)
یکم اکتوبر کی شام کو بھارتیہ ودیا بھون کے ہال میں اجتماع تھا۔ وسیع ہال پورا بھرا ہوا تھا۔ یہ اجتماع مہاتما گاندھی کے ۱۲۵ ویں جنم دن پر کیا گیا تھا، پہلے ایک ڈرامہ کیا گیا۔ اس میں ایک انگریز جج نے مہاتما گاندھی کے خلاف ایک مقدمہ کی سماعت کی۔ اس کے بعد اس نے ان کے لیے چھ سال کی قید کا حکم سنایا۔ مہاتما گاندھی نے اعلان کیا کہ میں اس فیصلہ کو قبول کرتا ہوں۔ اس کے بعد ہر طرف گاندھی جی کی جے، گاندھی جی کی جے کے نعرے بلند ہونے لگے۔ ۱۹۲۲ میں احمد آباد میں گاندھی جی کے خلاف برٹش عدالت میں حکومت سے بغاوت (sedition) کا یہ مقدمہ چلایا گیا تھا۔ اس کی سماعت ایک انگریز جج بروم فیلڈ (R.S. Broomfield) نے کی تھی۔ اس ڈرامہ میں اسی تاریخی واقعہ کو دہرایا گیا۔
برٹش جج اپنا فیصلہ سنا چکا تو مہاتما گاندھی نے کہا۔ ۔۔ ہم کو جیلوں میں اس طرح داخل ہونا چاہیے جس طرح کوئی دولہا اپنی دلہن کے کمرہ میں داخل ہوتا ہے :
‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues