Al-Risala · December 1997 · page

I shall see India free before I die.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷

برٹش مجسٹریٹ مہاتما گاندھی کو مجرم قرار دے کر انھیں جیل میں بند کرنے کا فیصلہ کر رہا تھا۔ مگر تاریخ، اس کے برعکس، گاندھی کا نام ہیرو کی حیثیت سے اپنے صفحات میں درج کر رہی تھی۔ کانفرنس میں مختلف لوگوں نے تقریریں کیں ۔ سی سپرانیہم، آر وینکٹارمن، این اے پالکھی والا، ڈاکٹر سوشیلا نائر، مہاراج موہن گاندھی، سوامی تمنیانند جی، مسائمن کاردی نال پینٹ، ایم وی کامتھ- میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ مہاتما گاندھی کے مشن کے دو فیز تھے۔ پہلا فیز تھا پولیٹیکل فریڈم کا حصول ۔ یہ ۱۹۴۷ میں پورا ہوگیا۔ دوسرا فیز وہ تھا جس کو سوشل فریڈم کہا جاسکتا ہے۔ اس کا پورا ہونا باقی ہے۔ اس دوسرے فیز کو پورا کرنے کے لیے بھی اسی عزم کی ضرورت ہے جو پہلے کام میں مہاتما گاندھی نے دکھایا تھا۔

میں نے تقریر میں ایک کتاب کا حوالہ دیا۔ یہ ایک برٹش جرنلسٹ ولیم شررکی کتاب ہے جس کا نام ہے - تھرڈ ریش کا عروج و زوال :

William Shirer, The Rise and Fall of the Third Reich مصنف نے ۱۹۴۷ سے پہلے کے زمانہ میں مہاتما گاندھی سے ملاقات کی تھی۔ مہاتما گاندھی نے ان کے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ میرے دوست، یاد رکھو کہ میں اپنی موت سے پہلے انڈیا کو آزاد دیکھ لوں گا :

I shall see India free before I die.

میں نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے ایک عزم کیا تو وہ عزم تاریخ نے پورا کر دیا۔ آج ضرورت ہے کہ ہم لوگ دوبارہ ایک نیا عزم کریں ۔ یہ اُس بات کا عزم ہے جس کی آج ہمارے ملک کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یہ امن کا قیام ہے ۔ ہم میں سے ہر شخص کو دوبارہ یہ کہنا چاہیے کہ میرے بھائی، یاد رکھو کہ میں اپنی موت سے پہلے انڈیا کو ایک پر امن ملک دیکھ لوں گا : I shall see India a land of peace before I die. ہم میں سے ہر شخص اگر اس کو اپنا مٹو بنا لے تو ضرور انڈیا ہماری زندگی ہی میں ایک ایسا ملک بن جائے گا جہاں ہر طرف امن اور ترقی کے مناظر دکھائی دینے لگیں۔

یہ کوئی سادہ بات نہیں ہے بلکہ وہ ایک سخت ذمہ داری کی بات ہے ۔ انڈیا کو آزاد دیکھنے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues

Printed page