Al-Risala · December 1997 · page

I shall see India free before I die.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷

کے لیے لاکھوں لوگوں کو قربانی کی حد تک جاکر محنت کرنی پڑی۔ اب اگر ہم اپنے ملک کو پر امن ملک دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے بھی دوبارہ ہمیں لمبی مدت تک محنت کرنی پڑے گی۔ سنجیدہ کوشش کے بغیر نہ پہلا مقصد حاصل ہوا اور نہ اس کے بغیر دوسرا مقصد حاصل ہو سکتا ہے۔ کسی ملک میں پرامن سماج کب بنتا ہے ۔ یہ اس وقت بنتا ہے جبکہ سماج کے افراد ڈسپلن کے تحت زندگی گزارنے پر راضی ہو جائیں ۔ قانون کی پابندی کرنا، دوسروں کے ساتھ رعایت کا معاملہ کرنا، اپنے حقوق سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں پر نظر رکھنا، دوسروں کی شکایت کرنے کے بجائے دوسروں کی نا پسندیدہ باتوں کو نظر انداز کرنا، یہی وہ چیزیں ہیں جن کے مجموعہ کا نام ڈسپلن ہے جس سماج کے افراد اس طرح ڈسپلن کے ساتھ زندگی گزارنے لگیں تو اس کے بعد اس کا جو نتیجہ حاصل ہوتا ہے اسی کا نام پر امن سماج ہے۔ اس مقصد کے لیے ہمیں یہ کرنا ہے کہ لوگوں کو ایجوکیٹ کریں۔ باشعور افراد ہی ڈسپلن کے ساتھ رہنے کی اہمیت کو جانتے ہیں۔ لوگوں کو باشعور بنانے کا یہ کام ہر سطح پر ہونا چاہیے۔ آپس کی ملاقاتوں میں، اسکول اور کالج میں، اخبار اور میڈیا میں، غرض ہر جگہ اور ہر سطح پر یہ مہم چلائی جائے اور لمبے عرصہ تک چلائی جاتی رہے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ ہم اپنے ملک میں پر امن سماج کو دیکھ سکیں۔ امن کی اہمیت کسی ایک اعتبار سے نہیں ہے بلکہ ہر اعتبار سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امن کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کے بغیر خود آزادی ہی بے معنی ہو جاتی ہے۔ امن کے بغیر ترقی کا کوئی بھی کام نہیں کیا جا سکتا، امن نہیں تو ترقی بھی نہیں، امن نہیں تو ملک کی تعمیر بھی نہیں۔ بہترین منصوبہ بندی، بہترین تعلیمی ادارے، بہترین اقتصادی نظام، بہترین قانون اور دستور سب کچھ اس وقت تک بے معنی ہے جب تک ملک میں امن نہ ہو۔ بے امنی کی حالت، تعمیر و ترقی کے ہر نقشہ کو بے معنی بنا دیتی ہے۔ سنگاپور سے لے کر جاپان تک جن ملکوں نے موجودہ زمانہ میں ترقی کی ہے وہ اس لیے کی ہے کہ انھوں نے اپنے ملک میں امن و سلامتی کا ماحول قائم کر لیا۔

ڈاکٹر سوشیلا نائر نے اپنی تقریر میں کہا کہ دیش ایک نئی کروٹ لے رہا ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے اس سے اتفاق ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک میں نئی جاگ پیدا ہوئی ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کو استعمال کر کے نئے ہندوستان کی تعمیر کی جائے۔

بھارتیہ ودیا بھون کی طرف سے جلسہ میں بڑے سائز کا ایک پمفلٹ تقسیم کیا گیا۔ اس میں باکس کے اندر ایک عبارت وہ تھی جس کو اگلے صفحہ پر نقل کیا جا رہا ہے۔ اس میں

‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues

Printed page