Al-Risala · December 1997 · page

I shall see India free before I die.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷

اموی خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا ایک واقعہ (حضرت علی کے نام سے) شائع کیا گیا تھا۔ خلیفہ بیت المال کے چراغ کی روشنی میں کچھ سرکاری کام کر رہے تھے۔ اس درمیان میں ایک شخص ذاتی ملاقات کے لیے آیا۔ انھوں نے سرکاری چراغ کو بجھا کر اپنا ذاتی چراغ جلا لیا۔ مذکورہ پمفلٹ میں بتایا گیا تھا کہ یہ قابل تعریف واقعہ پر بدھا بھارت (Prabuddha Bharata) کے شمارہ اگست ۱۹۹۴ میں چھپا تھا۔ اس کو خاص طور پر سوامی رنگا نا تھنڈا نے حیدرآباد سے بھیجا تھا تاکہ اسے شائع کیا جائے۔ چنانچہ ان کی فرمائش پر اسے بھارتیہ ودیا بھون کے تعارف نامہ میں شامل کرکے اسے لوگوں میں تقسیم کیا گیا۔

بھارتیہ ودیا بھون کا قیام ۱۹۳۸ میں مہاتما گاندھی کے مشورہ پر عمل میں آیا۔ اس کے فاؤنڈر مسٹر کے ایم منشی تھے۔ اس کا مقصد ملک میں اخلاقی کلچر کو رواج دینا تھا۔ جلسہ کے آخر میں تمام حاضرین سے ایک عہد لیا گیا۔ اس کا مضمون انگریزی اور ہندی میں پڑھ کر سنایا گیا۔ اگلے صفحہ پر اس عہد کا مضمون دیکھا جاسکتا ہے۔

ہارون شیخ صاحب بمبئی کے ایک تجارتی ادارہ میں ڈائرکٹر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی تعلیم ایک انگریزی اسکول میں ہوئی۔ اس وقت وہ اسلام کے بارہ میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور نہ وہ اسلام کے بارہ میں کچھ سوچتے تھے۔ مگر اسکول میں کچھ غیر مسلم لڑکوں نے انھیں ٹانٹ کرنا" شروع کر دیا۔ کے نام سے سر ہوا بھی تھا جو اس قابل ہے کہ اسے عام کیا جائے تاکہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues

Printed page