I shall see India free before I die.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷
اسلام پر وہ طرح طرح کے لغو اعتراضات کرتے اور میں ان کا جواب نہیں دے پاتا۔ اس سے میرے اندر مطالعہ کا جذبہ پیدا ہوا۔ میں نے اسلام کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اب خدا کے فضل سے میرا ذہن پوری طرح اسلامی ہے۔ اور خدا کے فضل سے اسلام کے بارہ میں ہر قسم کے سوال کا جواب دے سکتا ہوں۔ بعد کو انھوں نے اردو بھی سیکھ لی۔
یہ تجربہ بتاتا ہے کہ کس طرح ہر عصر میں ایکیسر چھپا ہوتا ہے۔ ہر ناموافق صورت حال میں کچھ موافق حالہت موجود رہتے ہیں۔ انگریزی تعلیم کا ادارہ جس کو کچھ لوگ "قتل گاہ" بتا رہے تھے، وہ اسلام کا مجاہد تیار کرنے کا ادارہ بن گیا۔
۲ اکتوبر کی صبح کو جسٹس قاضی کے مکان پر جناب ایس زیڈ ایچ قاضی (ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، تھانے) اور آرجے قادری ایڈوکیٹ آگئے۔ ان لوگوں سے دیرتک الرسالہ مشن اور مسلم مسائل پر گفتگو ہوئی، انھوں نے اپنے علاقہ میں آنے کی دعوت دی۔
یہاں سے روانہ ہو کر ہم لوگ مسٹر مدھو مہتا کے یہاں آگئے۔ ان سے دیر تک ملکی مسائل پر گفتگو ہوئی۔ پلیگ کی حالیہ وباء کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ "مولانا صاحب، جو انسان نہیں کر سکتا تھا وہ خدا نے کر دیا۔ ایسا طمانچہ مارا ہے کہ سب کی ہوا نکال دی۔ " انھوں نے بتایا کہ آج کل بے نظمی کا یہ حال ہے کہ الا آباد کے ہائی کورٹ کے جج نے سپریم کورٹ کو یہ درخواست دی کہ مجھے پولیس سے خطرہ ہے، مجھ کو پولیس سے بچاؤ۔ یہ کیس جب سپریم کورٹ میں آیا تو سپریم کورٹ کے جج نے کہا کہ یہ خاتمہ کا آغاز ہے :
مسٹر مدھومہتا(بمبئی) نے بتایا کہ وہ سورت گئے۔ وہاں کُمک ٹائل انڈسٹری کے تحت، ہزار دکانیں ہیں۔ ان لوگوں کا روزانہ کا ٹرن اُور کروڑوں بلکہ اربوں روپے تک پہنچتا ہے۔ مگر یہ لوگ شہر یا محلہ کی صفائی سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ مسٹر مہتا نے ان سے کہا کہ اگر تم لوگ اعشاریہ ایک فی صد بھی اس کام کے لیے نکالو تو تم نہ صرف اپنے محلہ کی بلکہ سارے شہر کی صفائی کر سکتے ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ سورت میں بھیانک پلیگ کا پھوٹ پڑنا ایک چيتاونی ہے۔ اب ہر جگہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ کو آپریٹو سوسائٹیاں بنائیں اور کئی ذمہ داریاں جس کو وہ اب تک سرکار پر ڈالتے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues