I shall see India free before I die.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷
ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ بودہ حالات میں ہیں ۔
ہفت روزہ بلٹز کے چیف ایڈیٹر مسٹر سدھیندر کلکرنی ملاقات کے لیے آئے تو انھوں نے اپنے اخبار کا شمارہ ۱۳ اگست ۱۹۹۴ء دیا۔ اس شمارہ کا ایڈیٹوریل خلافت (۱۹۱۹ء، ۱۹۹۴ء) پر تھا۔ انھوں نے اس کے ایڈیٹوریل میں مولانا محمد علی کے اس مشہور جملہ پر تنقید کی تھی کہ میرے مذہب کے نقطۂ نظر سے ایک برا مسلمان بھی گاندھی سے بہتر ہے :
میں نے کہا کہ یہ اسلام کی بات نہیں ہے۔ یہ محمد علی کی اپنی بات ہے۔ اس قول کی بنیاد پر آپ اسلام کے بارہ میں کوئی رائے قائم نہ کریں۔ اس مضمون میں مسلمانوں کی انتہا پسندانہ تحریکوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ مسلمانوں میں کب مہاتما پیدا ہوگا جو جنونی مسلمانوں سے لڑے اور ساری دنیا کے مفاد کے لیے اسلام کی سچی روح کو زندہ کر لے :
مسرکلکرنی سے دوسری ملاقات ہوٹل میں ہوئی ۔ ان سے مذہب اور عقیدہ کے سوال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انھوں نے تعدد عقیدہ (multiple faith) کے نظریہ کی حمایت کی۔ میں نے کہا کہ عقیدہ کا تعلق سچائی سے ہے۔ اور سچائی (ٹروتھ) کو دی ٹروتھ ہونا چاہیے ۔ اس کے بغیر اس کے ساتھ وہ گہرا تعلق نہیں ہو سکتا جو مطلوب ہے ۔
انھوں نے کہا کہ یہ واقعہ کہ اسلام کروڑوں آدمیوں کو ساری دنیا میں متحرک کر سکتا ہے، یہ واقعہ مجھ کو یہ ماننے کی طرف لے جاتا ہے کہ اسلام میں کوئی خاص اندرونی خوبی موجود ہے :
‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues