Al-Risala · December 1997 · page

I shall see India free before I die.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷

باندرہ کی سڑک سے، ہم لوگ گزر رہے تھے کہ ظہر کی نماز کا وقت آگیا۔ گاڑی روک کر باندرہ کی جامع مسجد میں داخل ہوئے ۔ وہاں میں پانی کے پاس وضو کے لیے کھڑا ہوا تھا کہ ایک صاحب نے کہا "السلام علیکم، میرے لیے دعا کیجیے"، میں نے سمجھا کہ مولوی ہونے کے اعتبار سے وہ مجھ سے ایسا کہہ رہے ہیں۔ مگر اس کے بعد ان کا اگلا جملہ یہ تھا کہ "میں الرسالہ کا قاری ہوں ۔ کلثوم کتاب گھر سے ہرماہ الرسالہ خرید کر پڑھتا ہوں۔ میں نے الرسالہ سے بہت کچھ سیکھا ہے ! " الرسالہ خدا کے فضل سے اتنا عام ہو گیا ہے کہ دہلی سے لے کر مالٹا اور باربیڈوزتک جہاں بھی میں گیا، ہر جگہ ایسے لوگ مل گئے جو الرسالہ یا انگریزی اور عربی کتاب پڑھے ہوئے تھے اور پیشگی طور پر ہمارے مشن سے واقف تھے۔ لکی ہوٹل میں ایک میٹنگ ہوئی۔ کچھ لوگوں نے سوال کیا کہ فقہی اختلاف کا معاملہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ جب دین ایک ہے تو اس میں اتنے اختلافات کیوں۔ یہاں میں نے آدھ گھنٹہ کی ایک گفتگو میں اس مسئلہ کی وضاحت کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اختلاف بعض اوقات تنوع کے معنی میں ہوتا ہے۔ آداب عبادت میں اختلاف بھی تنوع کے معنی میں ہے۔ دورِ نبوت، دورِ صحابہ اور دورِ تابعین میں ان کو اسی معنی میں لیا جاتا تھا۔ اس وقت یہ کہا جاتا تھا کہ یہ کرلو تب بھی ٹھیک ہے، وہ کر لو تب بھی ٹھیک ہے۔ مگر تبع تابعین کے زمانہ میں ایک نیا ذہن پیدا ہوا۔ انھوں نے خود ساختہ معیار کے تحت شریعت میں "وحدت" لانے کی کوشش کی۔ انھوں نے چاہا کہ ایک کو قابلِ اخذ اور دوسرے کو قابلِ ترک، یا غیر افضل ثابت کریں۔ تنوع کو وحدت بنانے کی اس غیر فطری کوشش نے شریعت میں غیر ضروری اختلافات پیدا کر دیے۔

جناب نسیم علی خان صاحب کو عملی کام کرنے کا کافی تجربہ ہے۔ انھوں نے اپنے تجربہ کی روشنی میں ملی اصلاح کے سلسلہ میں کچھ باتیں کہیں۔ انھوں نے کہا کہ دفاع اسی وقت مفید ہے جب کہ وہ منظم ہو۔ ہمارے نوجوانوں کا حال یہ ہے کہ ہر ایک اپنے کو سردار سمجھ لیتا ہے۔ یہ انتہائی تباہ کن ہے۔ ضرورت ہے کہ ہر محلہ میں ایک سینئر آدمی امیر ہو۔ اس امیر کے تحت ایک مشاورتی کمیٹی ہو، محلہ کے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues

Printed page