I shall see India free before I die.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷
گئے تھے۔ ایک بڑی میز پر نشہ کی مختلف قسمیں بطور نمونہ رکھی ہوئی تھیں۔ اس میں سے ایک سفید رنگ کا مادہ تھا۔ اس کے متعلق بتایا گیا کہ یہ میٹھا ہوتا ہے۔ لوگ اس کو ”پر شاد“ کے طور پر کھلا کر مسافروں کو لوٹ لیتے ہیں۔
پونہ کارپوریشن کے میئر علی بھائی سومجی بھی اس تقریب میں شریک تھے۔ وہ پونہ کے پہلے مسلمان میئر ہیں اور خواجہ فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ میئر نے مرھٹی زبان میں تقریر کی۔ آخر میں انھوں نے کہا : جے ہند، جے مہاراشٹر۔
میں نے سوچا کہ نشہ فری زندگی کامیابی کا راز ہے۔ مگر شراب اور بھنگ اور افیون جیسی چیزوں کے علاوہ بھی نشہ پیدا کرنے والی چیزیں ہیں۔ مثلاً دولت، اقتدار، عقل، بھیڑ، سرکارسی وغیرہ ہیں۔ نشہ آدمی کو نارمل حالت میں باقی نہیں رکھتا۔ اور تمام ترقیاں نارمل حالت ہی میں ہوتی ہیں۔ اس دنیا میں وہی آدمی پائیدار کامیابی حاصل کر سکتا ہے جو اپنے آپ کو ہر قسم کے نشہ سے دور رکھے۔ ۵ اکتوبر کی شام کو عشاء کی نماز نیوائر اکالونی کے بی سیکٹر کی مسجد میں پڑھی۔ اس کے بعد عبد الغفار عبدالرحمن (ساگر کنسٹرکشن) کی رہائش گاہ پر اجتماع ہوا۔ میں نے کچھ احادیث کی روشنی میں ایک دینی تقریر کی۔ حاجی یونس صاحب تاجر ہیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ بزنس میں ترقی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ـــــــــــ ایک دوسرے کی عزت کر کے چلنا، لوگوں کے ساتھ ایڈجسٹ کر کے رہنا، خدا کا خوف دل میں رکھ کر چلنا۔ یہ سمجھنا کہ جب میں خدا کی نظر میں ہوں تو پھر فکرکیا۔ وہ سب کو دیتا ہے تو مجھ کو کیوں نہیں دے گا۔
حاجی یونس صاحب کی تین لڑکیاں اپنے سسرال میں خوشی کے ساتھ رہ رہی ہیں میں نے حاجی صاحب کی اہلیہ سے پوچھا کہ اس کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”میں ہمیشہ اپنی لڑکیوں سے ایسا بولتی کہ دیکھو، ہمیشہ نرمی سے رہنا، کسی کا جواب نہیں دینا، اونچی بات نہیں کرنا، اس لیے عزت کرتے ہیں وہ لوگ “۔
۵ اکتوبر کو نماز ظہر کے بعد فیاض احمد صاحب کے مکان پر ایک میٹنگ تھی۔ عبد القادر میمن صاحب نے بتایا کہ ۲۵ سال پہلے پونہ میں مسلمانوں میں غلط دھندے بہت تھے ۔ شراب، جوا وغیرہ ۔ مگر اب یہ بہت کم ہو گیا ہے۔ اس تبدیلی میں دوسرے اسباب کے علاوہ تبلیغی جماعت کی کوششوں
‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues