I shall see India free before I die.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷
کے بھی خاص دخل ہے۔
۵ اکتوبر کو نماز سے کچھ پہلے جب میں نیو ایرا۔ بی (New Era-B) کی مسجد میں پہنچا تو مسجد سے ایک سو قدم کے فاصلے پر کھلے میدان میں نوراتری کا جلسہ ہو رہا تھا۔ آج اس کا پہلا دن تھا ۔ ہندو مرد اور عورتیں جمع ہو کر ناچ اور گانے میں مشغول تھے۔ اسی کے ساتھ وہاں لاؤڈ اسپیکر لگا ہوا تھا جس کی وجہ سے ان کے گانے اور باجے کی آواز دور تک پھیل رہی تھی۔ اس کا شور میرے کانوں سے ٹکرایا تو فوری طور پر میرے اندر سخت رد عمل پیدا ہوا۔ میں نے سوچا کہ شور وغل کے اس ماحول میں ہمارا پروگرام کیسے چل سکے گا۔
عین اس وقت مجھے کسی کا ایک قول یاد آیا جس نے میرے ذہن کو ٹھنڈا کر دیا۔ وہ قول اس طرح ہے کہ پختگی یہ ہے کہ آدمی ان چیزوں کے ساتھ ایڈجسٹ کر کے رہ سکے جن کو وہ بدل نہیں سکتا۔ اس ایڈجسٹمنٹ کا تعلق قانون فطرت سے ہے نہ کہ انسان سے۔
عشاء کی نماز کے بعد اجتماع شروع ہوا۔ تعلیم یافتہ مسلمانوں کی ایک تعداد جمع تھی۔ جب میں نے تقریر شروع کی تو ابتداً محسوس ہوا کہ سو قدم پر ہونے والا ہندوؤں کا پروگرام مسلسل پرشور مداخلت کر رہا ہے۔ مگر جب میں نے اس پر صبر کر لیا تو میرا ذہن منفی رخ سے ہٹ کر مثبت رخ پر سوچنے لگا۔ یہاں تک کہ اس شور و غل نے مجھے اپنی تقریر کے لیے بہترین موضوع دے دیا۔
میں نے کہا کہ عربی کا ایک مثل ہے کہ چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں (تعرف الا شیاء باضدادھا)میں میں نے کہا کہ اس وقت صرف سو قدم کے فاصلہ پر یہاں لاؤڈ اسپیکر کا شور ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود ہم اپنا اجتماع کامیابی کے ساتھ کر رہے ہیں۔ اس شور نے نہ ہمارا جلسہ منتشر کیا اور نہ ہماری جان و مال کو کوئی نقصان پہنچایا۔
لیکن اب سے پہلے ۱۴ اپریل ، ۱۹۸۷ کومیرٹھ میں ٹھیک اسی طرح کا واقعہ پر زبر دست فساد ہو گیا۔ وہاں مسلمانوں کا جلسہ بھی منتشر ہو گیا اور ان کے جان و مال کو بھی سخت نقصان پہنچا۔ اس فرق کا سبب یہ تھا کہ ہم اس شور کو نظر انداز کر کے اپنا جلسہ کر رہے ہیں میں جبکہ میرٹھ کے مسلمان لاؤڈ اسپیکر کے شور کو جو کہ ایک مندر سے آ رہا تھا نظر انداز نہ کر سکے۔ انھوں نے وہاں پہنچ کر لاؤڈ اسپیکر کو بند کروانے کی کوشش کی اور جب وہ لوگ لاؤڈ اسپیکر بند کرنے پر راضی نہیں ہوئے تو اس کو توڑ کر پھینک
‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues