Al-Risala · December 1997 · page

I shall see India free before I die.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷

دیا ۔ اس کے بعد وہاں زبردست فساد ہوا اور مسلمانوں کو ناقابل بیان جانی اور مالی نقصان برداشت اس سلسلہ میں ضروری تفصیلات عرض کرنے کے بعد میں نے کہا کہ اس دنیا میں صبر و اعراض سے کامیابی ملتی ہے ۔ اور بے صبری اور مستقل مزاجی صرف تباہی تک لے جانے والی ہے ۔ پونہ اور میرٹھ کا تقابل اس کو سمجھنے کے لیے بالکل کافی ہے ۔

میں نے کہا کہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات سازش کے تحت ہوتے ہیں۔ مگر یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ سازش کرنے والے سازش نہیں کرتے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ بذات خود سازش میں فساد کرنے کی طاقت نہیں۔ سازش کو فساد تک پہنچنے کے لیے ایک اور چیز درکار ہے۔ اگر یہ مددگار چیز اسے فراہم نہ کی جائے تو محض سازش کی بنا پر کبھی خونی فساد نہیں ہو سکتا۔

یہ دوسری چیز ہے سازش کرنے والوں کے ایگو کو بھڑکانا۔ سازش کرنے والے اپنی ایگو کو خود سے بھڑ کا نہیں سکتے، جس طرح پٹرول خود سے اپنے کو آگ نہیں لگا سکتا۔ سازشیوں کی ایگو کو بھڑکانے کا کام دوسرے لوگ کرتے ہیں۔ دوسرے لوگ اگر ماچس کا کام نہ کریں تو فساد کاپٹرول بھڑکنے والا بھی نہیں۔

میں نے کہا کہ آپ میں سے کسی کو اگر اس میں شک ہو تو ابھی وہ اس کا تجربہ کر سکتا ہے۔ ہمارے جلسہ سے دو آدمی اٹھ کر جائیں اور شیوراتری والوں سے ان کا لاؤڈ اسپیکر بند کرنے کے لیے کہیں اور جب وہ بند نہ کریں تو ان کا لاؤڈ اسپیکر توڑ کر پھینک دیں اور اس کے بعد دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہی ہوگا جو ۱۹۸۷ میں ٹھیک اسی سبب سے میرٹھ میں پیش آیا۔

میں نے کہا کہ میں نے یہ نظریہ قرآن سے اخذ کیا ہے۔ قرآن میں ہے کہ اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی سازش تمہیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی (آل عمران (۱۲۰) اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ صبر و تقویٰ سازش کا توڑ ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر کوئی تمہارے خلاف سازش کر رہا ہو تو تم اس کے پیچھے نہ دوڑو بلکہ خود اپنے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت پیدا کر لو۔ اس کے بعد یقینی طور پر تم ان کے شر سے محفوظ رہو گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues

Printed page