Al-Risala · December 1997 · page

I shall see India free before I die.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷

ایک مجلس میں میں نے کہا کہ اجتماعی جرم اکثر دو طرفہ غلطی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ایسے جرم میں اس کے دونوں فریق برابر کے شریک قرار پاتے ہیں۔ یہ جرم وہ ہے جس کو قانون کی اصطلاح میں مشترک غفلت (contributory negligence) کا نتیجہ کہا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک آدمی سڑک پر گاڑی چلا رہا ہے۔ اسی وقت دوسرا آدمی سامنے سے اپنی گاڑی چلاتا ہوا آ گیا۔ اب یہ دونوں کی ذمہ داری ہے کہ ہر ایک موقع کے لحاظ سے ضروری احتیاط (care) کرے۔ مثلاً اگر وہ تیز رفتار تھا تو وہ اپنی رفتار کو کم کرے۔ وہ اپنی گاڑی کو کنارے کی طرف لے جائے ، وغیرہ۔ اگر دونوں ہی بے احتیاطی کے ساتھ اپنی اپنی گاڑی دوڑاتے رہیں تو ایکسیڈنٹ ہو جائے گا۔ ایسی حالت میں قانونی اعتبار سے دونوں برابر کے قصور وار سمجھے جائیں گے۔ اسی کا نام مشترک غفلت ہے۔ زندگی کے اکثر حادثات اسی قسم کی مشترک غفلت کے نتیجہ میں واقع ہوتے ہیں دوسرے کی غلطی میں حصہ دار نہ بنئے ، دوسرے کی غلطی میں حصہ دار بننا بھی اپنے آپ کو غلط کا ر ثابت کرنا ہے۔

۶ اکتوبر کو ظہر کی نماز مکہ مسجد میں پڑھی۔ یہاں کی ایک چیز مجھے پسند آئی۔ وہ اوقات نماز کی گھڑی کا طریقہ ہے۔ انھوں نے دیوار پر ایک بڑا سا گھڑی کا ماڈل لگا دیا ہے۔ اس کی سوئی ہر نماز کے بعد گھما دی جاتی ہے۔ مثلاً اس وقت وہ ڈیڑھ بجے کا وقت بتا رہی تھی، یعنی ظہر کی نماز کا وقت۔ نماز کے بعد اس کو عصر کے وقت پر کر دیا گیا۔

نماز کے بعد کچھ لوگ اکٹھا ہو گئے۔ آدھ گھنٹہ تک ان سے گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ دعوت کا کام ہمیشہ قربانیوں پر چلتا ہے۔ مگر ہندوستان میں دعوت کے عمل کو زندہ کرنے کے لیے اصل قربانی جو مطلوب ہے وہ ابھی تک مسلمانوں نے دی نہیں۔ اسی لیے یہاں دعوت کا عمل بھی جاری نہ ہو سکا۔ یہ قربانی ہے ہند و نفرت کو اپنے دل سے نکال دینا۔ مسلمان اگر چاہتے ہیں کہ ان کو دعوت والا ثواب دیا جائے تو اس کی ایک ہی صورت ہے۔ وہ یہ کہ وہ اپنے دل سے ہند و نفرت کو یک طرفہ طور پر نکال دیں۔ نفرت کو نکال کر وہ ہندو کے لیے ہدایت کی دعا کریں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو ان کے اور ہندوؤں کے درمیان نارمل فضا میں اختلاط ہونے لگے گا اور پھر دعوت کا عمل اپنے آپ جاری ہو جائے گا۔ یہی دعوت حق کے لیے خدا کا مقرر کیا ہوا طریقہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues

Printed page