Al-Risala · December 1997 · page

I shall see India free before I die.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷

ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ، برطانیہ میں ایسی خواتین کی تعداد دس ہزار ہو چکی ہے ۔ اور یہ زیادہ تر اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ سے تعلق رکھتی ہیں ۔

ویلزیونیورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز کے نومسلم صدر معشوق ابن علی نے برطانیہ میں قبول اسلام کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھ کو خاص طور پر یہ دیکھ کر تعجب ہے کہ مسلمان ہونے والی بیشتر خواتین اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ سے تعلق رکھتی ہیں ۔ یہ رجحان اس حقیقت کے باوجود جڑپکڑتاجارہا ہے کہ مغرب میں میڈیا کے علاوہ آزادی نسواں کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں بھی اسلام کی منفی تصویر پیش کرنے کی بھر پور کوشش کر رہی ہیں ۔

ایک تعلیم یافتہ ہندو سے گفتگو ہوئی ۔ وہ اس نظریہ کی حمایت کر رہے تھے کہ سچائی متعدد ہو سکتی ہے۔ یہ کہنا صحیح نہیں کہ فلاں مذہب ہی سچائی مذہب ہے۔ میں نے اس نظریہ کی تردید کی۔ تقریبا آدھ گھنٹہ کی گفتگو کے بعد انھوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اس نقطہ نظر کو واضح کرنے کے لیے میں زیادہ اہل نہیں ہوں :

May be I am unable to explain the point. اس کے بعد میں نے گفتگو کا موضوع بدل دیا۔

پونہ میں ایک نئی خوب صورت مارکیٹ وہاں کی ایک خاص سڑک پر بنائی گئی ہے۔ ایک صاحب یہ مارکیٹ دکھانے کے لیے لے گئے۔ یہاں انسانوں کا ہجوم تھا۔ ہر طرف تجارتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ یہاں میں نے ایک کپڑے کی دکان دیکھی۔ اس دکان کا کرایہ ۶۵ ہزار روپے مہینہ تھا۔ اس کے باوجود جن صاحب نے اس کو کرایہ پر لیا ہے ، وہ اس سے صرف کرایہ کے طور پر پندرہ ہزار روپے مہینہ نفع کما رہے ہیں۔ انھوں نے یہ کیا کہ دکان کے سامنے چند میزیں بچھادیں۔ ۔ اس کو الگ الگ افراد کو روزانہ کی بنیاد پر کرایہ پر دے دیا۔ اس کے بعد دکان کے بیچ میں لوہے کا اسٹینڈ کھڑا کر کے وہاں بھی ایک درمیانی دکان قائم کر دی۔ اس طرح انھوں نے ایک دکان میں آٹھ دکانیں بنادیں اور اس کے ایک حصہ میں اپنی دکان بھی رکھ لی۔

یہ سب کی سب سلے ہوئے کپڑے (گارمنٹ) کی دکانیں تھیں۔ وہ ہر کرایہ دار سے یومیہ بنیاد پر کرایہ لیتے ہیں۔ یہ رقم مجموعی طور پر ۸۰ ہزار ہوتی ہے ۔ ۶۵ ہزار روپے ماہانہ وہ مالک کو

‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues

Printed page