Al-Risala · December 1997 · page

I shall see India free before I die.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷

دیتے ہیں اور پندرہ ہزار روپے مہینہ خود لے لیتے ہیں۔ اپنی دکان سے جو فروخت ہوتی ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔

اس کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ اوسط درجہ کی ایک دکان کو مذکورہ شخص ۶۵ ہزار روپے ماہوار کرایہ پر لینے کے لیے کیسے راضی ہو گیا۔ جب کہ ایک عام آدمی اس کو اتنی بھاری قیمت پر لینے کے لیے کبھی راضی نہ ہوتا۔ ایک غیر تجارتی آدمی سمجھ نہیں سکتا تھا کہ یہ کوئی نفع کا سودا ہے۔ مگر تجارتی راز کو جاننے والے آدمی نے سمجھ لیا کہ یہ یقینی طور پر ایک نفع بخش سودا ہے، اور آگے بڑھ کر اسے لے لیا۔ یہی معاملہ دین کے لیے قربانی دینے کا بھی ہے۔ خدا کا مطالبہ ہے کہ دین کے لیے اپنا سب کچھ پیش کرو۔ اب جو لوگ یہ یقین کر لیتے ہیں کہ دنیا میں کم دے کر آخرت میں زیادہ پانا ہے وہ بڑھ کر اپنا سب کچھ دین کے لیے پیش کر دیتے ہیں۔ مگر جن لوگوں کے اندر یہ یقین نہیں ہوتا وہ اس خدائی پکار کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ دنیا کی کامیابی بھی صاحبِ معرفت کو ملتی ہے اور آخرت کی کامیابی بھی صاحبِ معرفت کے حصہ میں آئے گی۔

پونہ میں ایک پبلک پارک ہے جس کو ایمپرس گارڈن (Empress Botanical Garden)

کہتے ہیں۔ ڈیڑھ سو سال پہلے وہ برطانی فوجیوں کے لیے بنایا گیا تھا اور سولجرس پارک کہا جاتا تھا۔ ۱۸۹۷ میں اس کو از سرِ نو درست کیا گیا اور کوئن الزبتھ کے نام پر اس کانام ایمپرس گارڈن رکھا گیا اب دوبارہ اس کو زیادہ بہتر بنایا گیا ہے۔ گارڈن کمیٹی کی خاتون چیرمین سومن کر لو کر کے الفاظ میں، عمارتی جنگل جیسے اس شہر میں یہ وسیع پارک لوگوں کے لیے تازہ ہوا حاصل کرنے کا ذریعہ ہو گا : It will prove to be the retreat for a breath of fresh air, in a city that is rapidly turning into a concrete jungle. ۴۳ ایکڑ میں واقع یہ پارک گویا فطرت کی ایک سر سبز دنیا ہے۔ اس طرح کے قدرتی پارک انسان کو انسانی دنیا سے نکال کر خدا کی دنیا میں لے جانے کا ذریعہ ہیں۔ آج کل ان مقامات کو صرف تفریح کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر ان کو تذکیر کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ معرفتِ رب کے حصول کے مقامات بن جائیں۔ (اگلے صفحہ کے نیچے تصویر ملاحظہ ہو)

سید امتیاز الدین دسنوی ایک انجینئر ہیں۔ وہ نہایت سنجیدہ مزاج کے آدمی ہیں۔ انھوں نے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues

Printed page