Al-Risala · December 1997 · page

I shall see India free before I die.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷

بتایا کہ، ۱۹۶۷ میں وہ سروس کے تحت ضلع پونہ کے ایک مقام لونو لا (Lonavla) میں تھے۔ رمضان کا مہینہ تھا، وہ وہاں کی ایک مسجد میں تراویح کی نماز پڑھ رہے تھے۔ اس درمیان سڑک سے شور و غل کی آواز آئی۔ معلوم ہوا کہ ہندوؤں کا ایک جلوس مسجد سے ملی ہوئی سڑک سے گزر رہا ہے۔ جلوس مسجد کے سامنے پہنچ کر ٹھہر گیا۔ باجے اور نعرے کی پر شور آواز مسجد کی دیواروں سے ٹکرانے لگی۔ یہ دیکھ کر نمازی غصہ ہو گئے۔ کچھ لوگ اٹھے کہ جاکر جلوس والوں سے کہیں کہ یہ مسجد ہے۔ یہاں شور نہ کرو بلکہ آگے جاؤ۔ سید امتیاز الدین نے ان مسلمانوں کو سمجھایا اور کہا کہ آپ لوگ چند منٹ بیٹھ کر ذکر کر لیجئے ۔ جلوس والے اپنے آپ آگے چلے جائیں گے۔ امتیاز الدین صاحب کے سمجھانے پر وہ لوگ مان گئے اور خاموش ہو کر اپنی جگہ بیٹھ گئے۔ سید امتیاز الدین صاحب نے بتایا کہ مشکل سے تین منٹ گزرے ہوں گے کہ آواز کم ہونے لگی اور تھوڑی دیر میں بالکل سکون ہو گیا۔ جلوس والے صرف تین منٹ تک مسجد کے سامنے ٹھہرے ۔ اس کے بعد اپنے آپ ہی آگے بڑھ گئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues

Printed page