I shall see India free before I die.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷
میں نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا کہ کچھ مسلمان سڑک پر آکر جلوس والوں کو روکتے تو وہ لوگ ضد میں پڑ جاتے ۔ اب دونوں طرف سے اصرار بڑھتا۔ یہاں تک کہ جومسئلہ ابتداء صر ف جلوس کا مسئلہ تھا، وہ بڑھ کر دونوں کے لیے وقار کا مسئلہ بن جاتا۔ اس کے بعد معاملہ اور آگے بڑھتا اور آخر کار وہ المیہ ظہور میں آتا جس کو فرقہ وارانہ فساد کہا جاتا ہے۔ اب ایک طرف مسجد کی نماز درہم برہم ہو جاتی اور دوسری طرف پوری بستی آگ اور خون میں نہا اٹھتی۔ حقیقت یہ ہے کہ امن اور فساد کے درمیان صرف تین منٹ کا فاصلہ ہے۔ اگر آپ تین منٹ کی ناخوش گواری کو برداشت کر لیں تو ہر طرف امن ہی امن ہوگا، اور اگر آپ تین منٹ کی ناخوش گواری کو برداشت نہ کریں تو ہر طرف فساد ہی فساد۔ ہر جگہ ایسے سبق آموز واقعات ملتے ہیں جن میں عمومی نصیحت ہوتی ہے۔ میں ہر جگہ اس قسم کے واقعات کو معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ پونہ میں بھی اس طرح کے کئی واقعات معلوم ہوئے۔ ۲۲ ستمبر ۱۹۹۱ کو پونہ میں گنیش چرتھی کا سالانہ جلوس نکلنے والا تھا۔ اسی دن ۱۲ ربیع الاول کی تاریخ بھی تھی۔ اور اس کی نسبت سے مسلمان اپنا میلاد النبی کا جلوس نکالنا چاہتے تھے۔ اگر دونوں جلوس ایک ہی دن نکلتے تو عام تجربہ کے مطابق ، سخت اندیشہ تھا کہ دونوں میں ٹکراؤ اور فرقہ وارانہ فساد کی نوبت آجائے۔ اور پھر خوشی کا دن پونہ والوں کے لیے غم کا دن بن جائے ۔ پونہ کی سیرت کمیٹی نے اس خطرہ کو محسوس کر کے اپنا ایک مشاورتی اجتماع کیا، مشورہ میں برکت ہے۔ چنانچہ مشورہ کے بعد ایک عمدہ تدبیر سمجھ میں آگئی۔ اور وہ یہ کہ دونوں جلوس دو الگ الگ دنوں میں نکلیں ۔ چنانچہ انھوں نے یہ کیا کہ دوسروں کے خلاف مطالباتی تجویز پاس کرنے کے بجائے خود اپنی تاریخ بدل دی۔ انھوں نے میلاد النبی کا جلوس چند دن کی تاخیر کے ساتھ، ۲۷ ستمبر کو نکالنے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح ہند و جلوس اور مسلمان جلوس دونوں الگ الگ تاریخوں میں کامیابی کے ساتھ نکلے اور شہر کی پر امن فضا بحال رہی۔
اسی کا نام قرآن کی اصطلاح میں اعراض ہے۔ اعراض کوئی بے عملی یا پس پائی نہیں۔ اعراض حسن تدبیر کا دوسرا نام ہے۔ اعراض فطرت کا ایک آفاقی اصول ہے جو آسمان کے ستاروں سے لے کر جنگل کے جانوروں تک ہر جگہ رائج ہے۔ اسی فطری اصول میں انسان کی کامیابی کا راز بھی چھپا ہوا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues