I shall see India free before I die.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷
ایک صاحب نے کہا کہ آپ آر ایس ایس کی میٹنگوں میں جاتے ہیں اور ان کے لوگوں سے ہیں، وہ تو اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ یہ نہ دیکھیے کہ میں کہاں جاتا ہوں۔ بلکہ یہ دیکھیے کہ کس لیے جاتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دشمنوں کے اجتماعات میں جاتے تھے۔ مگر آپ کا جانا اس لیے ہوتا تھا کہ خود اپنی بات دوسروں تک پہنچائیں۔ ہمیں بھی اسی سنتِ رسول پر عمل کرنا ہے۔
میں نے کہا کہ آپ نے میری سرگرمیوں کی رپورٹ اردو اخبارات میں پڑھی ہوگی جو سنسنی خیز صحافت کے اصول پر چلائے جاتے ہیں۔ اگر آپ خود آر ایس ایس کے اخبارات کو دیکھتے تو آپ کو یہ غلط فہمی نہ ہوتی۔ پھر میں نے ان کو ایک عملی مثال دی۔
میں نے کہا کہ نئی دہلی سے آر ایس ایس کے دو ہفت روزہ اخبار نکلتے ہیں۔ پانچ جنیہ( (ہندی) اور آرگنائزر (انگریزی)۔ اس کے ذمہ داروں نے ۷ جولائی ۱۹۹۰ کو اپنے دفتر (رانی جھانسی مارگ) میں ایک مشترک میٹنگ کی۔ ان کی دعوت پر میں اس میٹنگ میں شریک ہوا اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک اسلام کے موضوع پر گفتگو کی۔ اس واقعہ کی رپورٹ اردو اخبار میں چھپی تو اس کا عنوان اس نے ان الفاظ میں قائم کیا :
مولانا وحید الدین خان ۔ ۔۔۔۔ مسلم دشمن طاقتوں کے کیمپ میں اب آپ دیکھیے کہ وہ ہند و صاحبان جو اس میٹنگ میں موجود تھے اور جنھوں نے میری باتوں کو سنا ان کی نظر میں میری تقریر کیا تھی ۔ آرگنائزر کے ایڈیٹر مسٹروی پی بھاٹیا نے اپنے اخبار کی دو قسطوں (۵ اگست، ۱۹ اگست ۱۹۹۰) میں اس پروگرام کا تفصیلی جائزہ شائع کیا۔ وہ خود اس پروگرام میں شروع سے آخر تک موجود تھے ۔ انھوں نے میری تقریر اور گفتگو کے بارہ میں جو لکھا وہ یہ تھا کہ میں نے وہاں اسلام کی تبلیغ کی اور میرا مشن تبدیلی مذہب (proselytisation) ہے۔ چنانچہ انھوں نے آرگنائزر کی شائع شدہ رپورٹ کا عنوان ان لفظوں میں قائم کیا :
‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues