I shall see India free before I die.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷
کے اجتماعات میں یہی دینی کام کر رہے ہیں۔
یہاں کے علاقائی اخبار اردو ٹائمز (۲ اکتوبر) کے آخری صفحہ پر ایک خبر کی سرخی یہ تھی: فرانس میں اسلام پرستی کی نئی لہر، حکومت پریشان۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ فرانس میں یہ خوف پایا جا رہا ہے کہ اس کی چار لاکھ مسلم آبادی میں کہیں اسلامی بنیاد پرستی نہ پھیل جائے۔ الجیریا میں جو الجیریائی قیادت اور مسلم دہشت گردوں کے درمیان خون ریز لڑائی چل رہی ہے۔ اس کی وجہ سے الجیریا میں مقیم کئی فرانسیسی مارے جا چکے ہیں۔ یہ اس سمت میں ایک وارننگ ہے۔
میں نے ایک صاحب سے کہا کہ لیے کوئی بھی اسلام سے خائف نہیں۔ جو بھی خائف ہے وہ اسلام کے نام پر کی جانے والی دہشت گردی سے خائف ہے۔ یہ نام نہاد انقلابی لوگ کوئی فائدہ تو اسلام کو نہ پہنچا سکے۔ البتہ انھوں نے اسلام کو بدنام کر کے لوگوں کو غیر ضروری طور پر اس ۔ سے متوحش کر دیا۔
پونہ میں افریقہ کے اور عرب ملکوں کے طلبہ سیکڑوں کی تعداد میں ہیں۔ آج صبح فجر کی نماز کے بعد تقریباً دس طالب علم جمع ہو گئے۔ یہ سب اریٹیریا کے تھے۔ ان سے دیر تک گفتگو ہوئی۔ وہ سب یہاں کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ اریٹیریا کی آزادی کے بعد وہاں مسلمانوں نے کیا کیا ترقیاں کی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کچھ نہیں۔ حکومت بھی وہاں نصرانی ہے۔ چند مسلم وزیر حکومت میں ہیں۔ لیکن رئیس ایک نصرانی ہے۔ اور سارا ایڈمنسٹریشن نصرانی لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ اسلامی تحریک چلانے کی اجازت نہیں۔
میں نے پوچھا کہ اس کا سبب کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اریٹیریا کے مسیحی اگر چہ عددی اعتبار سے اقلیت میں ہیں۔ مگر ان میں تعلیم، تجارت، اتحاد، ڈسپلن، الشعور زمانہ پر چیز مسلمانوں سے زیادہ ہے۔ اس دنیا میں آزادی کے بعد بھی وہی لوگ تمام شعبوں پر قابض ہیں، جیسا کہ وہ پہلے تھے۔ حاجی یونس صاحب کی رہائش گاہ پر لوگ مسلسل آتے رہے۔ اور ان سے دینی اور ملی موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ بمبئی کے ٹائمز آف انڈیا (۴ اکتوبر) میں صفحہ اول پر ایک کارٹون تھا۔ ایک عرب واکی ٹاکی لیے ہوئے ایک کرسی پر پریشان حال کھڑا ہوا ہے۔ کرسی پر لکھا ہے ہوائی جہاز، سمندری جہاز، ہر قسم کے غذا کی اشیاء وغیرہ کی درآمد پر پابندی۔ عرب شیخ ٹیلی فون پر کہہ رہا ہے :
‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues