Al-Risala · December 1997 · page

I shall see India free before I die.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷

May be there's nothing to panic. But we are only taking maximum precautions. میکسی مم پر یکاشن لینا بہت اچھا ہے۔ اگر یہی طریقہ مسلمان دوسرے معاملات میں بھی اختیار کرنے لگیں تو بے شمار نقصانات اپنے آپ ختم ہو جائیں۔

پونہ میں قیام کے دوران مجلس کی صورت میں مسلسل لوگوں سے بات ہوتی رہی۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں میں ہر معاملہ کی وضاحت کرتا رہا۔ ایک صاحب نے حضرت علیٰ کی نماز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ ایسی نماز پڑھتے تھے کہ ایک بار ان کے جسم میں تیر لگ گیا۔ انھوں نے کہا کہ جب میں نماز میں کھڑا ہوں تو نکال لینا ۔ چنانچہ نماز کے وقت تیر کھینچا گیا اور ان کو محویت کی وجہ سے اس کا احساس ہی نہیں ہوا۔ میں نے کہا کہ محویت کا یہ مطلب نہیں ہے۔ تیر جب نکالا جائے گا تو ہر آدمی کو تکلیف ہوگی، خواہ وہ کتنا ہی مخلص اور متقی کیوں نہ ہو۔ اصل یہ ہے کہ حضرت علیؓ نے یہ بات توجہ ہٹانے کے معنی میں کہی تھی۔ اس وقت نماز میں مشغولیت کا مطلب توجہ کو ہٹا لینا تھا۔ جیسے ہم لوگ انجکشن لگوانے کے وقت یا خون نکلوانے کے وقت آنکھ بند کر لیتے ہیں یا منہ پھیر کر دوسری طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ 6 اکتوبر کی شام کو انڈین ایرلائنس کی فلائٹ 850 کے ذریعہ پونہ سے دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔ اس کا مقرر وقت آٹھ بجے تھا۔ مگر جہاز کسی قدر تاخیر کے ساتھ روانہ ہوا۔

راستہ میں ہندی اخبار ساندھیہ ٹائمس (۶ اکتوبر) دیکھا۔ پہلے صفحہ کی نمایاں خبر کا عنوان تھا: تھا:تہاڑ کے قیدی کی موت۔

بنگلور سے نکلنے والے دکن ہیرالڈ (۶ اکتوبر) کے ایڈیٹوریل کے صفحہ کے اوپر البرٹ شیویٹزر (Albert Schwietzer) کا ایک قول نقل کیا گیا تھا :

The tragedy of life is what dies inside a man while he lives. یعنی موت آنے پر اندر کے انسان کا مر جانا زیادہ بڑا المیہ نہیں۔ زیادہ بڑا المیہ یہ ہے کہ آدمی جسمانی طور پر زندہ ہو مگر اس کے اندر کا انسان مر چکا ہو۔

انڈین ایرلائنس کا فلائٹ میگزین سواگت (اکتوبر 1994) دیکھا۔ اس کے ہندی شعبہ میں ایک مضمون کا با تصویر عنوان یہ تھا : گاندھی ، آج کے یا کل کے۔ اس کے رائٹر مسٹر پنکج شرمانے گاندھی جی

‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues

Printed page