Al-Risala · February 1997 · page 11

عیدالاضحیٰ

الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۱۱

قرآن کی سورہ نمبر ۱۰۸ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی تبعیت میں آپ کی پوری امت کو قربانی کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سورہ کا ترجمہ یہ ہے: ہم نے تم کو کوثر دے دیا۔ پس اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ بے شک تمہارا دشمن ہی بے نام و نشان ہے (الکوثر)

کوثر کے معنی خیر کثیر کے ہیں۔ یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہتری۔ پیغمبر اسلام کو یہ خیر کثیر اپنے کمال درجہ میں دیا گیا۔ بعد کے امتیوں کو وہ ان کے عملی استحقاق کے اعتبار سے دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے آمیز حق کی دعوت لے کر اٹھے تھے۔ اس قسم کا کام ہمیشہ قربانی کی سطح پر انجام دیا جاتا ہے۔ یہ کام بلاشبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ یہ مشکل ترین کام آپ نے عظیم ترین قربانی کے ذریعہ انجام دیا۔ حتی کہ اس دعوت کی راہ میں آپ کو اپنی ہر چیز کھو دینی پڑی۔

آپ اپنی قوم سے کٹ گئے، آپ کی معاشی زندگی برباد ہو گئی۔ آپ کی اولاد کا مستقبل تاریک ہو گیا۔ تھوڑے سے لوگوں کے سوا کسی نے آپ کا ساتھ نہیں دیا۔ مگر آپ ہر قسم کی قربانی دیتے ہوئے اس پر قائم رہے، یہاں تک کہ اللہ کی طرف سے آپ پر یہ بشارت اتری کہ تم کو کوثر (خیر کثیر) دے دیا گیا۔ ہر قسم کی اعلیٰ ترین کامیابی دنیا اور آخرت میں تمہارے لئے ابدی طور پر لکھ دی گئی۔ قرآن کی یہ پیشین گوئی بُعد کے سالوں میں کامل طور پر آپ کے حق میں پوری ہوئی۔

عید اضحیٰ اسی قربانی کے عہد کا دن ہے جو تمام اعلیٰ کامیابیوں کا زینہ ہے۔ اس دنیا میں وہی لوگ بڑا درجہ حاصل کرتے ہیں جو اس کے لئے تیار ہوں کہ وہ ہر حال میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں گے۔ وہ مشقتوں اور قربانیوں کی قیمت دے کر اپنے فرض منصبی کو ادا کریں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues

Printed page