Al-Risala · February 1997 · page 12

حج اور قربانی

الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۱۲

حج اور قربانی

حج کی اصل حقیقت قربانی ہے۔ حج کے تمام اعمال میں جو روح کام کر رہی ہے وہ قربانی کی روح ہے۔ حج کے موقع پر جانور کی قربانی اسی حقیقت حج کا علامتی اظہار ہے۔ بظاہر آدمی ایک جانور کو لٹا کر اس کو ذبح کرتا ہے۔ مگر جانور کی قربانی دراصل اپنی جان کے بدل کے طور پر ہے۔ حقیقی قربانی یہ ہے کہ آدمی یہ سمجھے کہ میں نے خود اپنے آپ کو آخری حد تک اللہ کے حکم کے آگے ڈال دیا ہے۔ اس کے لئے جانور کے اوپر چھری رکھنا خود اپنی ذات کے اوپر چھری رکھنے کے ہم معنی بن جائے۔

حج کی یہ حقیقت اس دعا سے بخوبی طور پر واضح ہے جو جانور کی قربانی کرتے ہوئے آدمی اپنی زبان سے ادا کرتا ہے۔ وہ یہ ہے ــ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لئے ہے جو سارے عالم کا پروردگار ہے۔ حج از اول تا آخر قربانی کا سبق ہے۔ حج میں آدمی کو اپنے کام اور اپنی مشغولیت کو چھوڑ کر نکلنا پڑتا ہے، یہ وقت کی قربانی ہے۔ وہ اپنے وطن سے روانہ ہو کر دور کے سفر پر جاتا ہے ، یہ معمولات کو توڑنے کی قربانی ہے۔ وہ اپنے روز مرہ کے اخراجات میں ایک نئے خرچ کا اضافہ کرتا ہے ، یہ مال کی قربانی ہے۔ وہ طواف اور سعی میں اپنے اعضا کو تھکاتا ہے ، یہ جسم کی قربانی ہے۔ وہ مسلسل اللہ کو یاد کرتا ہے اور اس کے آگے گریہ وزاری کرتا ہے ، یہ اپنی انا کی قربانی ہے۔ اس کے ساتھ حج کے سفر میں بہت سے اجنبی لوگوں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔ اس میں طرح طرح کی ناخوشگوار باتیں پیش آتی ہیں۔ کبھی کوئی شخص کڑوی بات بولتا ہے۔ کبھی کسی آدمی سے دھکا لگ جاتا ہے۔ کبھی کسی شخص سے کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے۔ اس طرح کے ناموافق تجربات اس کے جذبات کو مشتعل کر دیتے ہیں۔ مگر وہ حکم خداوندی کی بنا پر اس قسم کی تمام چیزوں کو برداشت کرتا ہے۔ یہ احساسات کی قربانی ہے جو بلاشبہ تمام قربانیوں سے زیادہ بڑی قربانی ہے۔

اس طرح حج گویا قربانی کی مشق اور قربانی کی تربیت ہے۔ حج آدمی کو جسمانی اور

‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues

Printed page