Al-Risala · February 1997 · page 13

حج اور قربانی

الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۱۳

روحانی اور مالی شدائد کے مختلف مراحل سے گزار کر اس کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ایک باعمل انسان بنے۔ سفر حیات میں وہ قربانی کی حد تک اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے قابل ہو جائے ۔

حج کوئی جامد قسم کی رسم نہیں۔ وہ ایک زندہ اور بامعنی عمل ہے۔ حج اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے اس بات کا پیغام ہے کہ آدمی کو چاہئے کہ وہ ہر حال میں با مقصد زندگی گزارے، خواہ اس کو اس مقصدیت کی کتنی ہی زیادہ قیمت کیوں نہ دینی پڑے ۔ حج کے مراسم گویا بامقصد زندگی کا یہ ہر سل ہیں جو علامتی انداز میں مخصوص تاریخوں میں دہرائے جاتے ہیں ۔ یہ علامتی ریہرسل اس لئے کرایا جاتا ہے تاکہ آدمی اپنے ماحول میں واپس آکر اس کو حقیقی طور پر اپنی زندگی میں دہرائے۔

با مقصد زندگی کی اس تربیت کے لئے ایک ایسے انسان کا نمونہ منتخب کیا گیا ہے جو اس معاملہ میں آئیڈیل انسان کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ آئیڈیل اور تاریخی شخصیت حضرت ابراہیم کی شخصیت ہے۔

حضرت ابراہیم کا زمانہ چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ انھوں نے اللہ کی خاطر پورے معنوں میں ایک با مقصد زندگی گزاری۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ انسانیت کو شرک سے ہٹا کر توحید کے عقیدہ پر قائم کیا جائے۔ اس پاک مقصد نے جن جن قربانیوں کا تقاضا کیا، وہ ساری قربانیاں انھوں نے پیش کیں۔

اس آئیڈیل انسان کی زندگی کے مختلف مراحل کو حج میں علامتی طور پر دہرایا جاتا ہے۔ اس طرح حاجی کے اندر یہ عزم بیدار کیا جاتا ہے کہ وہ دنیا میں مقصد حق کے لئے جئے اور مقصد حق کے لئے مرے۔ جس طرح حضرت ابراہیم ساری عمر مقصد حق کے لئے جئے ۔ اور آخر میں اپنے عزیز بیٹے کو اسی کے لئے قربان کر دیا۔ حضرت ابراہیم نے ہر مطلوبہ قیمت ادا کی مگر وہ اس مقصد سے نہیں ہٹے جو اللہ نے انھیں بتایا تھا ۔ اسی طرح حاجی کو یہ کرنا ہے کہ وہ ہر ضروری قیمت ادا کرے ۔ مگر مقصد کی شاہراہ کو کبھی نہ چھوڑے۔

ہر زمانہ میں ایک ابراہیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی اس انسان کی جو لوگوں کی بھلائی

‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues

Printed page