حج اور قربانی
الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۱۴
کو لئے تڑپے۔ جو لوگوں کو سچائی کا راستہ دکھانے کے لئے بلا معاوضہ محنت کرے۔ جو اپنا سب کچھ کھوئے تاکہ دوسرے لوگ پانے والے بن جائیں۔ حج کے مراسم کے دوران یہی جذبہ ہر ایک حاجی کے اندر ابھارا جاتا ہے، اور اسی جذبہ کو لے کر اسے مقاماتِ حج سے واپس آنا ہے۔
حضرت ابراہیم کے زمانہ میں لوگ خدا کو بھولے ہوئے تھے۔ وہ خدا کو چھوڑ کر خدا کی مخلوقات کو پوجتے تھے۔ حضرت ابراہیم نے ان کے درمیان توحید کی تبلیغ کی۔ مگر لمبی مدت تک کوشش کرنے کے باوجود لوگ شرک کے راستہ سے نہیں ہٹے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ نسل در نسل مشرکانہ تہذیب میں زندگی گزارنے کی وجہ سے وہ اس کے رنگ میں اتنا رنگ گئے تھے کہ ان کا ذہن کوئی دوسری چیز قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا تھا۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے اسماعیل اور ان کی ماں ہاجرہ کو عرب کے غیر آباد صحرا میں بسادیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ صحرا کے الگ تھلگ ماحول میں پرورش پا کر ایسے لوگ نکلیں جو اپنی فطرت پر قائم ہوں اور توحید کے فطری پیغام کو قبول کر سکیں۔ چنانچہ یہی ہوا۔ ڈھائی ہزار سال کے دوران توالد و تناسل کے ذریعہ صحرائی ماحول میں ایک تازہ دم قوم تیار ہوئی جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔ یہی لوگ دین توحید کو قبول کر کے اصحاب رسول بنے اور ساری دنیا میں ایک نیا انقلاب برپا کر دیا۔
موجودہ زمانہ میں دوبارہ مذہب توحید کو زندہ کرنے کے لئے ایک جاندار قوم کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے دوبارہ قربانیوں کی ضرورت ہے۔ اب موجودہ حالات کے لحاظ سے جو لوگ دوبارہ یہ کام کریں وہی سچے اور مکمل حاجی ہیں۔
آج جو لوگ حج کے لئے جاتے ہیں، ان کو حج کا پیغام یہی ہے۔ ان کو دوبارہ اپنے اندر توحید کی روشنی جلانا ہے۔ ان کو دوبارہ اپنے اندر ابراہیم کی طرح راجہ پیدا کرنا ہے۔ ان کو دوبارہ اللہ کے گھر کو مننے والا اور اللہ کے لئے دوڑنے والا بننا ہے۔ ان کے اختلافات سے بلند
‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues