حج اور قربانی
الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۱۵
حضرت ابراہیم نے قدیم حالات کے اعتبار سے جو حق پرستانہ کردار ادا کیا تھا، آج حاجی کو وہی حق پرستانہ کردار موجودہ حالات کے اعتبار سے ادا کرنا ہے۔ یہی حج کا پیغام ہے اور یہی حج کا فریضہ ادا کرنے والوں کا پروگرام۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حج کے زمانہ میں جو جانور ذبیحہ کیا جاتا ہے تو اللہ کو اس کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا، بلکہ اللہ کو اس کا تقویٰ پہنچتا ہے (الحج ، ۳۷)گویا گویا کہ جانور کا ذبیحہ ایک علامتی عمل ہے، اس کے ذریعہ جو اصل چیز مطلوب ہے، وہ یہ کہ ذبح دینے والے کے اندر تقویٰ کی اسپرٹ پیدا ہو۔
یہی حج کے تمام مراسم کا معاملہ ہے۔ حج کے تمام مراسم علامتی مراسم ہیں۔ وہ علامتی طور پر یہ سبق دیتے ہیں کہ اپنے اندر اسی قسم کی روح پیدا کرو۔ اس ظاہر کو اپنے باطن میں اتار لو۔
علامتی عمل، ہمیشہ ایک رہتا ہے۔ مگر اس کی روح کا ظاہری استعمال کیا ہو، اس میں زمانہ کے اعتبار سے فرق ہو سکتا ہے۔ حاجی کے اندر حقیقی معنوں میں اگر حج کی روح پیدا ہو جائے تو اس کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ وہ جن حالات میں ہے، اس کے اعتبار سے وہ کون سی قربانی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اس سے مطلوب ہے۔
سچا حاجی وہ ہے جس کے لئے حج کے مراسم اس کے اندر حج کی مطلوب روح پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائیں۔ جو نہ صرف "ذوالحجہ" کا حاجی ہو بلکہ وہ پوری عمر اور پوری زندگی کا حاجی بن جائے۔
پیغامِ انقلاب (مراٹھی)
پیغامِ انقلاب کا مراٹھی ترجمہ مندرجہ ذیل پتے سے دستیاب کیا جا سکتا ہے KADAM PRINTOCRAFT A-4/2, MIDC, Jalna Road, Aurangabad, Maharashtra
‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues