Al-Risala · February 1997 · page 16

صحیح رہنمائی

الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۱۶

صحیح رہنمائی

یہ ایک مانی ہوئی حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان سنگین مسائل سے دوچار میں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کا سبب مسلمانوں کے درمیان قیادت کا فقدان ہے۔ مگر حقائق کی روشنی میں دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ یہ ایک بالکل بے بنیاد مفروضہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ قیادت کا فقدان نہیں بلکہ اتباعِ قیادت کا فقدان ہے۔ مسلمانوں ہیں صحیح رہنمائی دینے والے قائد پیدا ہوئے ۔ مگر قوم نے ان کا اتباع نہیں کیا۔ اور جب قوم صحیح قائد کا اتباع نہ کرے تو اس کی رہنمائی کا فائدہ قوم کو کس طرح مل سکتا ہے۔ یہاں میں سرسید احمد خاں (۱۸۹۸ء- ۱۸۱۷ء) کی مثال دینا چاہتا ہوں۔ انھوں نے واضح طور پر قوم کو ایک رہنمائی دی۔ بعد کے تجربات نے بتایا کہ یہ رہنمائی درست تھی۔ مگر بہت تھوڑے لوگوں کو چھوڑ کر قوم نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ بلکہ انھیں کافر اور گمراہ اور دشمنوں کا ایجنٹ بتایا۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کو سرسید کی رہنمائی کا فائدہ نہیں مل سکتا تھا اور نہ انھیں اس کا فائدہ ملا۔

۱۸۵۷ء کے حادثہ کے وقت سرسید کی عمر تقریباً ۴۰ سال تھی۔ مسلمانوں نے اس وقت انگریزوں سے لڑائی کی۔ اس لڑائی میں مسلمانوں کو بری طرح شکست ہوئی۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ مسلمانوں کو کچھ دے تو نہ سکی۔ البتہ انقلابات زمانہ کے باوجود جو کچھ ان کے پاس باقی رہا تھا وہ بھی ۔ ان سے چھین لیا۔ مسلمان ہر اعتبار سے ایک برباد کمیونٹی بن کر رہ گئے۔ سرسید نے ان حالات کو دیکھا۔ وہ ان سے شدید طور پر متاثر ہوئے۔ چنانچہ انھوں نے ۱۸۶۹ء میں انگلینڈ کا سفر کیا۔ وہاں انھوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ یورپ کے غلبہ اور اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کی مغلوبیت کا راز کیا ہے۔ سرسید نے نہایت درست طور پر جانا کہ اس کا سبب حقیقتہً اغیار کی سازش نہیں ہے بلکہ خود مسلمانوں کی یہ کمی ہے کہ وہ جدید دور کی تعلیم میں دنیا سے پیچھے رہ گئے۔ انھوں نے اس راز کو سمجھا کہ موجودہ زمانہ علمی انقلاب کا زمانہ ہے۔ اس علمی انقلاب میں یورپ کی قو میں آگے ہیں اور مسلمانوں کی پس ماندگی کا حال

‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues

Printed page