صحیح رہنمائی
الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۱۷
یہ ہے کہ وہ ابھی تک اس علمی انقلاب میں داخل بھی نہ ہو سکے۔
سر سید احمد خاں انگلینڈ سے واپس آئے تو اس وقت کے غیر منقسم ہندوستان میں مسلمانوں کے علماء اور دانشور صرف ایک ہی بات جانتے تھے اور اسی کے پرچار میں مصروف تھے، وہ یہ کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ سیاسی مسئلہ ہے۔ انگریزوں کی سیاسی بالادستی یا انگریزوں کے جانے کے بعد ہندوؤں کی سیاسی بالادستی، بس یہی ایک چیز تمام مسلم ذہنوں پر سوار تھی اور مختلف صورتوں میں ہر ایک اسی سیاسی مسئلہ سے نجات حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف تھا۔ مسلم دنیا کی دوسری شخصیت جس نے یورپ کا تحقیقی سفر کیا وہ خیر الدین التونسی ہیں) جدید ہندوستان میں سر سید پہلے قابل ذکر شخص ہیں جنھوں نے کہا کہ ہمارا اصل مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ تعلیمی ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اس وقت عملی سیاست میں مصروف نہ ہوں اور اس کے بجائے اپنی تمام کوشش صرف تعلیم کے محاذ پر لگا دیں : Sir Sayyid advised the Muslims against joining active politics and to concentrate instead on education (1/369). سرسید کی رہنمائی نہایت صحیح رہنمائی تھی۔ مگر مسلمانوں نے سرسید کی اس رہنمائی کو قبول نہیں کیا۔ وہ تعلیمی جدوجہد کے بجائے سیاسی جدوجہد میں لگے رہے ۔ اور جب رہنمائی کو اختیار نہ کیا جائے تو اس کا فائدہ کس طرح کسی کو مل سکتا ہے۔
اس معاملہ کو تقابلی طور پر سمجھنے کے لئے جاپان کی مثال لیجئے۔ ۱۹۴۵ میں امریکہ نے جاپان پر ایٹم بم گرائے۔ اس کے نتیجے میں جاپان مغلوب ہو گیا اور اس کے اوپر امریکہ کی سیاسی بالادستی قائم ہو گئی۔ اس وقت ہیرو ہیٹو جاپان کا لیڈر تھا۔ اس نے جاپان کے دانشوروں اور فوجی افسروں سے مشورہ کیا۔ اکثریت رائے یہ تھی کہ ہماری فضائی طاقت اگر چہ تباہ ہوگئی ہے، مگر ہماری آرمی پوری طرح محفوظ ہے۔ اس لئے ہم اپنی جنگ اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک دوبارہ ہم کو سیاسی بالادستی حاصل نہ ہو جائے۔ ہیرو ہیٹو بہت پڑھا لکھا اور سمجھدار آدمی تھا۔ اس نے کہا کہ موجودہ حالات میں سیاسی اور فوجی لڑائی جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس کے بجائے ہم کو اپنی ساری
‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues