صحیح رہنمائی
الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۱۸
طاقت تعلیم کے محاذ پر لگا دینا چاہئے ۔ تعلیم کے میدان میں مصروف ہونے کے لئے ہمیں امن درکار ہے ۔ یہ امن ہم اسی طرح حاصل کر سکتے ہیں کہ ہم فی الحال امریکہ کی سیاسی بالا دستی پر راضی ہو جائیں تاکہ ہم جاپان میں ایک نئی نسل تیار کر سکیں ۔ ہیرو ہیٹو نے جاپانی ریڈیو پر تقریر کرتے ہوئے کہا :
We have resolved to pave the way for a grand peace for all the generations to come by enduring the unendurable and suffering what is unsufferable. ابتدائی اختلاف کے بعد پوری جاپانی قوم نے ہیرو ہیٹو کی رہنمائی کو پکڑلیا۔ انھوں نے تعلیم کو سپریم حیثیت دے کر اس کے حصول کی جدوجہد شروع کر دی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد صرف چالیس سال کے عرصہ میں یہ حال ہوا کہ جاپان دنیا کا سب سے زیادہ تعلیم یافتہ معاشرہ بن گیا۔ اور اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر ، سب سے زیادہ باشعور اور سب سے زیادہ ترقی یافتہ معاشرہ بھی۔
۱۹۴۵ میں جاپان ایک کمزور ترین ملک بن گیا تھا۔ آج جاپان ایک طاقتور ترین ملک کی حیثیت سے اپنی حیثیت منوارہا ہے۔ اس کو آج اقتصادی سپر پاور کہا جاتا ہے۔ اور یہ سب کچھ ایک صحیح لیڈر کے صحیح مشورہ پر نصف صدی تک جدوجہد کرنے کے نتیجہ میں حاصل ہوا ۔
سیاسی ٹکراؤ کو چھوڑ کر تعلیم کے میدان میں محنت کرنے کا مشورہ ہیرو ہیٹو نے جاپان کو ۱۹۴۵میں دیا۔ سرسید احمد خاں نے ٹھیک یہی مشورہ غیر منقسم ہندوستان کے مسلمانوں کو اس سے ۱۲۵ سال پہلے ۷۰ ، ۱۸ میں دیا تھا۔ مگر جاپان آج سپر پاور ہے۔ اور مسلمان منی پاور بھی نہیں۔
اس فرق کا سبب قیادت کا فقدان نہیں بلکہ قیادت کے اتباع کا فقدان ہے۔ جاپانیوں نے اپنے لیڈر کی رہنمائی کو مان لیا۔ اور اس کے حصول میں اپنی ساری توجہ لگادی۔ مگر مسلمانوں نے اپنے لیڈر کو الزامات کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے اس کی رہنمائی کو دشمن کی چال بتا کر اسے رد کر دیا۔ وہ علم کے بجائے سیاست کے میدان میں اپنا مستقبل تلاش
‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues