سفر نامہ یورپ ۳
الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۲۰
سفر نامہ یورپ ۳
ایران کے پروفیسر پورزوائی کو ایرانی انقلاب کے بعد ایران کی حالت پر بولنا تھا۔ انھوں نے کہا کہ انقلاب کے فوراً بعد لوگوں کو اس سے بہت زیادہ امیدیں ہو گئی تھیں ۔ مگر اب انھیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی امیدیں پوری نہیں ہو ئیں ۔ انقلاب نے شاہی حکومت کا تو خاتمہ کر دیا ۔ مگر حقیقی مسائل بدستور ایران میں باقی ہیں۔ انھوں نے اس قسم کی کئی باتیں سوال کے انداز میں کہیں۔ مگر ان کا کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا کہ آپ واقعہ پورے معنی میں ایک فلسفی ہیں کیونکہ ایک فلسفی کی تعریف یہ ہے کہ وہ سوالات اٹھائے مگر ان کا جواب پیش نہ کرے: You are a philosopher, in the true sense of the word. Because it is said that the philosopher is one who raises question without providing any answer. جون ۱۹۹۲ کے آغاز میں ایران کے صدر ہاشمی رفسنجانی نے اپنے دفتر میں ایرانی مہاجرین کی ایک جماعت سے ملاقات کی۔ وہ لوگ ترک وطن کے کئی سال بعد اعلیٰ تعلیم کی وزارت کی دعوت پر ایران آئے تھے۔ زائرین میں سے ایک صاحب جو کہ ایٹمی تحقیق کے میدان میں بین اقوامی ماہر سمجھے جاتے ہیں، ان سے رفسنجانی نے پوچھا کہ اپنے سابق وطن ایران کے بارہ میں آپ کے تاثرات کیا ہیں۔ صدر کے سوال کے جواب میں ایرانی مہاجر نے جو الفاظ کہے وہ آج کل ایران میں لوگوں کے درمیان بہت گردش کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا : میں نے ملک میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں دیکھی ، سوا اس کے کہ شاہ اب عمامہ پہنتا ہے اور اس کے آدمیوں نے بھی اپنے لباس بدل لیے ہیں۔ نائٹ کلب سڑکوں سے منتقل ہو کر گھروں کے اندر چلے گئے ہیں ، اور نفاق ایک معمول کی چیز بن گیا ہے۔ بلکہ جو شخص جتنا زیادہ مصنوعی دین داری دکھاتا ہے وہ اتنا ہی بڑا منصب حاصل کرتا ہے۔ حاضرین مجلس کے تعجب اور اضطراب کے درمیان صدر رفسنجانی نے مذکورہ شخص سے کہا کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں سچ کہہ رہے ہیں : في بداية الشهر الماضي استقبل الرئيس الايراني هاشمي رفسنجاني في مكتبه مجموعة من المغتربين الايرانيين ممن كانوا يزورون ايران بعد سنوات عديدة من الغربة بدعوة من وزارة التعليم العالي. سأل رفسنجاني احد زواره الذي يعتبر خبيرا دوليا في مجال البحوث الذرية، عن انطباعاته خلال زيارته للوطن. وجاء رد المغترب الايراني على سؤال الرئيس في عبارة تردد حاليا في ايران، فقال: لم اشاهد تغيرا اساسياً في البلاد سوى ان الشاه يلبس العمامة من جلاله البتعمل والاستعباد، والنادي الليلة انتقلت من الشوارع الي داخل البيوت، والنفاق
‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues